اسلام آباد حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

اسلام آباد: اسلام آباد میں امام بارگاہ پر حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار ہوگئی، دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج، پولیس نے کریک ڈاؤن کر کے پندرہ مشکوک افراد دھر لئے۔ خودکش بمبار کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی نماز جنازہ دو بجے ادا کی جائے گی۔


ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، خودکش حملہ آور کی جیکٹ میں پانچ سے چھ کلوگرام دھماکا خیز مواد اور بال بیرنگ استعمال کیا گیا۔ حملہ آور کی لاش کے قریب ایک زندہ ہینڈ گرنیڈ بھی ملا جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ خودکش جیکٹ کا سوئچ حملہ آور کے دائیں بازو پر لگا ہوا تھا۔ ملزم کے فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصاویر نادرا حکام کو بھجوا دی گئی ہیں۔


دھماکے کا مقدمہ امام بارگاہ کی کميٹی کے ممبر کی مدعيت ميں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ جس میں دہشت گردی، دھماکہ خیز مواد کے استعمال، قتل اور اقدام قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں۔


پولیس نے رات گئے غوری ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، شکریال اور قطبال ٹاؤن میں سرچ آپریشن کر کے پندرہ مشکوک افراد کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے بھاری اسلحہ اور ہزاروں گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ ملزمان میں کالعدم تنظیم کا ایک کارکن بھی شامل ہے۔


خود کش بمبار کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے تین افراد کی نماز جنازہ دوپہر دو بجے ادا کی جائے گی۔ بدھ کی شام اسلام آباد کے علاقے نیو شکریال میں امام بارگاہ پر دہشت گردوں کے حملے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ سماء

KESC

رپورٹ

تحقیقاتی

Tabool ads will show in this div