گلگت جیل حملہ،سانحہ نانگا پربت میں ملوث سزائے موت کا قیدی فرار

ویب ایڈیٹر :

گلگت بلتستان : ڈسٹرکٹ جیل  گلگت  میں قید چار خطرناک مجرموں نے جیل توڑ کر فرار   ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران ایک قیدی پولیس مقابلے میں ہلاک، اور ایک زخمی ہوگیا، جب کہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ فرار ہونے والوں میں  نانگا پربت پر غیرملکی سیاحوں کے قتل میں ملوث دو  دہشت گرد بھی شامل ہیں ۔

گلگت میں رات گئے چار قیدیوں نے ڈسٹرکٹ جیل سے فرار ہونے کی کوشش کی،  محافظوں کی فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا جسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا،  جب کہ دو قیدی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے جن کی تلاش کیلئے سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا،  لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

  غفلت برتنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ ، وارڈن سمیت چار اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔ ملزمان نانگا پربت پر دس غیرملکی سیاحوں اور ان کے مقامی گائیڈ کے قتل میں ملوث تھے۔ ان کا کیس فوجی عدالت میں بھیجنے کی منظوری دی گئی تھی۔  فرار ہونے والے قیدیوں کے نام حبیب الرحمان اور لیاقت ہیں۔  حکومت نے مفرور قیدیوں کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے بیس لاکھ روپے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔  جیل کے اندر فرنٹئر کانسٹیبلری اور گلگت بلتستان پولیس جبکہ باہر گلگت اسکاؤٹس کے اہلکار تعینات ہیں۔

سانحہ نانگا پربت :

موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے صرف ایک ہفتے بعد  جون 2013ء کو پیراملٹری پولیس کی وردی میں ملبوس مسلح  افراد  نے نانگاپربت میں ایک بیس کیمپ پر فائرنگ کرکے نو غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ایک پاکستانی کو ہلاک کردیا تھا۔سطح سمندر سے چار ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر نانگا پربت کے قریب کیمپ میں موجود تھے۔ گلگت بلتستان کے ڈسٹرکٹ دیامیر میں واقع یہ پہاڑ دنیا کے سب سے بلند ترین مقامات میں شامل ہیں۔ جس کے بعد واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔ سماء

 

میں

پر

policy

gifts

Tabool ads will show in this div