دنیاکاساتواں بڑاشہرکچرےکاڈھیربن گیا

دنیا کا ساتواں بڑا شہر کراچی جو منی پاکستان کہلاتا ہے جہاں سے پاکستان اربوں،کروڑوں کماتا ہے آج اسکا کوئی پرُسانِ حال نہیں۔ کراچی کا آج کل ایسا حال ہے جیسے کوئی بچہ یتیم ہوجائے اور اسکی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔اردگردکے لوگ صرف باتیں کرتے ہیں اسکی مدد کوئی نہیں کرتا۔

 کراچی کے ساتھ بھی وہ ہی سلوک کیا جارہا ہے جس کا وہ کبھی مستحق نہیں رہا ۔بارشوں کے بعد سڑکیں اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کہ بس لگتا ہےکہ گاڑیاں موت کے کنویں میں چل رہی ہوں۔گٹر کاگنداپانی سڑکوں پرجمع ہے۔جگہ جگہ کچرے کا ڈھیرلگاہوا ہے۔

اس گندگی و تعفن سے عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے لیکن سندھ سرکار کو لگتا ہے کہ کچرے سے بہت محبت ہے ۔اسی لیے سندھ کے وزیر بلدیات جام شور خا ن کاکہناہےکہ کراچی سے تمام کچرا 2سا ل میں صاف کر دیا جائے گا۔انھوں نے کہاکہ ہے کچرا اٹھا نے کا کام سندھ حکومت کا نہیں بلکہ ضلع پرنسپل کمیونیٹوں کا ہے ۔اب سوال یہ ہے کیا عوام 2سال تک صبرکریں؟کیوں کیا ان کے پاس کچرا اٹھا نے کی مشین نہیں ہے،اگر یہ کچرا ان کے گھر کے باہرہوتا تو 2سال نہیں 2گھنٹے میں صاف ہو جائے گا۔

دوسال میں تو دنیا کہا ں سے کہاں چلی جائے گی، آپ صرف کراچی کا کچرا صاف کریں گے؟گندگی غلاظت کے باعث گھروں میں رہنا دشوار ہو گیا ہے۔ کبھی کچرے کبھی سیوریج پانی کی بدبو سے گھر مہکتے رہتے ہیں، عام آدمی کی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ایسا خطرناک آلودہ ماحول پید ا ہو گیاہے جس سے عام آدمی بیماری یا حبس کے باعث زندگی سے محروم ہو رہے ہیں۔بارشوں کے بعد سڑکوں پر خاک اڑنے لگی ہے۔ پولن الرجی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔کلینکس میں، پولن الرجی عرف عام میں ڈسٹ الرجی کے مریض ہی مریض ہیں۔ کراچی کی شاہراہوں سمیت گلی محلوں میں مٹی ہی مٹی موجود ہے۔ ہوا کے دوش پر کراچی کے شہری مٹی کھانے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں۔

شاہراہوں اور پلوں کے کناروں پر مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جن کو صاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ حکومت سندھ کا صفائی کے ممکنہ اقدامات نہ ہونے سے تعفن و غلاظت بھرے زہریلے ماحول سے شہریوں کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے کردیا ہے  ۔ کراچی کا کون سا ایسا علاقہ ہے جہاں عوام ان مسائل کا سامنا نہیں کررہے۔ مساجد کے باہر بھی گٹرکا گندا پانی اور کچرے کا ڈھیرنظر آرہا ہے۔ کراچی کی تمام اہم شاہراہیں اور عمارتیں کچرے کے ڈھیر سے گھری ہوئی ہیں۔صدر جو کراچی کا اہم حصہ ہے جہاں پورے کراچی سے لوگوں کی آمد و رفت ہوتی ہے وہاں پر بھی صفا ئی کا کوئی نظام نہیں ہے۔

مسجد جو اللہ کا گھر ہے جہا ں لوگ نماز پڑھنے جاتے وہاں پر بھی گندگی موجود ہے۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ کراچی کی عوام 2سال صبر کریں ۔ سندھ سولڈ ویسٹ بورڈ صرف کھانے پینے کا محکمہ بن کر رہ گیا ہے، بلدیاتی افسران نے تو صرف مال بٹورنے کے نئے ریکارڈ قائم کر دئیےہیں۔غلط راستے پرلگانے والےافسران جیبیں بھرنے کے ساتھ منتخب بلدیاتی نمائندوں کیلئے ہتھکڑیاں بھی تیار کروا رہے ہیں ۔ آپس کی لڑائی میں کراچی کوکچرے کاشہر بنا دیا ہے۔زمینی حقائق میں اس کی کارکردگی انتہائی ناقص درجے کی ہے۔ خدارا کراچی میں اگر ایمان داری سے کا م کر یں گے تو  2سال تو کیادودن میں کراچی سے کچرا صاف ہو جا ئے گا ۔ بہتر ہے کہ ایک ادارے کو صفائی کی ذمہ داری دیکر اس سے کام لیا جائے۔بازپرس اور کاروائیوں کے بغیر شہر کے بلدیاتی مسائل حل ہونا ممکن نہیں ہے۔ اگر حکومت نے فنڈز فراہم کرنے کے ساتھ محکموں پر سختی کرے تو شہر صاف جلد صا ف ہو جائے گا۔

Social Issues

city government

Tabool ads will show in this div