شائقین کرکٹ کی بڑی کامیابی

تحریر: سجاد خان

مبارک ہو۔۔۔۔ ورلڈ کلاس کرکٹرز پر مشتمل ورلڈ الیون کی ٹیم نے دورہ پاکستان کامیابی سے مکمل کرلیا۔ تمام شکوک و شبہات اور خدشات ہوا ہوگئے۔پاکستان میں آزادی کپ کے کامیاب انعقاد پر دنیا تعریفوں کے پل باندھ رہی ہے۔ جہاں سکیورٹی اداروں کی محنت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھاگ دوڑ نے کمال دکھایا وہاں ایونٹ میں شائقین کا غیرمعمولی ڈسپلن اور جوش و خروش بھی قابل دید تھا۔ سخت چیکنگ، پارکنگ کے مسائل اور کھانے پینے کی اشیاء گراؤنڈ تک لانے کی پابندی سے بے نیاز دیوانوں نے کرکٹ کو خوب انجوائے کیا۔

پاکستانی ٹیم کی حوصلے کے ساتھ ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کی ہمت اورجرات پر بھی آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن خوشگوارحیرت میں مبتلا نظر آئے۔ ایونٹ کے بعد آئی سی سی کو بھی اندازا ہوگیا کہ پاکستانی قوم کرکٹ سے پیار کرنے والی ہے۔ ورلڈ الیون کا میچ کرفیو لگا کر کھیلا گیا نہ لوگ ٹی وی تک محدود رہے، میچ کے جتنے ٹکٹ فروخت ہوئے اتنے ہی شائقین کرکٹ اس امید کے ساتھ اسٹیڈیم کے باہر موجود تھے کہ شاید میچ کا ٹکٹ ہی مل جائے ۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں نے مہمان ٹیم کی حفاظت اور ایونٹ کے کامیابی سے انعقاد کے لئے رات دن ایک کردیا اورپی سی بی نے بھی مہمان ٹیم کی آؤبھگت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

آزادی کپ کے میچز بھی کانٹے داررہے ایک موقع پرتو ایسا لگتا تھا کہ کوئی بھی ٹیم ہار مانے کو تیار نہیں اور یہی وہ لمحہ تھا جب شائقین کا جوش عروج پر تھا۔ دنیا کو اندازہ ہوگیا کہ پاکستانی شائقین کو عالمی کرکٹ سے کئی برس دور رکھ کر بڑی غلطی سرزد ہوگئی، اب اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان کے خلاف سیریز کا ٹی ٹوئنٹی پاکستان میں کھیلنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ ویسٹ انڈیز بھی پاکستان میں سیریزکے میچز کھیلنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے لیجنڈ کھلاڑیوں کو بھی اس موقع پر یاد رکھا اور سابق کپتان مصباح الحق کی الوداعی تقریب کو یادگار بنایا۔ نامور کھلاڑیوں نے سجے سجائے رکشے میں بیٹھ کرگراؤنڈ کا چکر لگایا۔ شائقین کا جوش وخروش اورایونٹ کو کامیابی سے منزل کی جانب سفر کرتے دیکھ کر شاہد خان آفریدی نے نہ نہ کرتے کرتے آخری میچ میں پی سی بی کی آفر قبول کر ہی لی اور لالہ نے بھی رکشہ میں گراؤنڈ کا چکر لگایا اور مداحوں سے خوب داد سمیٹی ۔

اب جبکہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل گئے ہیں، پی سی بی اور حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے کہ آنے والی ٹیموں کو بھی ورلڈ الیون کے برابر سکیورٹی فراہم کرے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے بھی جاتے جاتے کہہ دیا ہے کہ آب مکمل سیریز کے انعقاد کے بعد ہی ورلڈ الیون کی ٹیم دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گی۔ پاکستان کی کامیابی سے بڑھ کر شائقین کی بڑی کامیابی نے یہ امکان روشن کر دیا ہے کہ اب ورلڈ الیون کی ٹیم پر اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ عالمی ٹیموں کے ساتھ سیریز کو بھی یقینی بنایا جائے گا کیونکہ پاکستان مکمل پرامن ملک ہے اور مہمانوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

INTERNATIONAL CRICKET

Tabool ads will show in this div