خاص الخاص نسلیں

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے ۔ خاص الخاص نسلیں کب تک آخر کب تک غریبوں ، مفلسوں اور بدحالوں کی زندگی سے کھیلیں گی؟ تانیہ خاصخیلی کے قتل کا دلخراش واقعہ محض واقعہ نہیں۔۔ ہمارے معاشرے کی بدصورت حقیقت ہے۔ ہماری بے حسی کی داستان ہے۔ ایک المیہ ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔۔ چاند پر پہنچنے کی باتیں پرانی ہوگئی۔۔ مریخ پر زندگی کے آثار ڈھونڈے جار ہےہیں۔ مہذب دنیا میں اونچ نیچ کا امتیاز کب کا ختم ہوچکا۔۔ مگر یہاں اب بھی رسم و ریت کے ہارمونیم پر جاگیرداری کے گن گائے جا رہےہیں۔ چھوت اچھوت کا شرمناک سلسلہ جاری ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے، تڑپ رہی ہے۔

فرسٹ ائیر کی طالبہ تانیہ کے خون نے پورے سیہون شریف کو خون میں رنگ دیا ہے۔ تانیہ کا گاؤں جانگھارا وڈیروں کے ہاتھوں انگارہ بن چکا ہے، مگر سائیں سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔۔ جاگیردار کے لاڈلے خان محمد نوحانی نے تانیہ کو تین دن کا وقت دیا شادی کر یا پھر مر۔۔ مظلوم لڑکی بہت چیخی چلائی سندھ سرکار خاموش رہی، میڈیا خاموش رہا۔۔ قانون کا رکھوالا کڑوا پانی حلق سے انڈیل کر مدہوش رہا۔ تیسرے دن جاگیردار کی انا پھڑک اٹھی اور اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر تانیہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی ۔۔ بہادر لڑکی نے مزاحمت کی تو بے چاری کو گولی مار کر قتل کردیا۔۔ مگر کون ہے جو اسے انصاف دلادے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے سندھ ہائی کورٹ نے سوموٹوایکشن لے لیا ہے۔ مگر ایساہی ایک نوٹس عدالت عظمیٰ مشال خان قتل کیس میں بھی لے چکی ہے اس کا کیا بنا؟ آہیں بے اثر ہیں۔۔ چیخ و پکار بے کار ہے۔۔ جو سننےوالے ہیں وہ گونگے بہرے ہوچکےہیں۔۔ جو دیکھنے والے ہیں ان کی آنکھوں پر بے حسی کی پٹیاں لگی ہوئی ہیں۔۔ تو ایسے میں فریاد کریں تو کس سے کریں؟ یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ سندھ کے خونخوار جاگیردار ہوں، وڈیروں کے جیل نما ڈیرے ہوں، خان خوانین کے غلیظ قوانین ہوں یا پھر سرداروں کے ہاتھوں بے بسوں اور لاچاروں کی لاغر زندگی ۔۔ پورا ملک خاص الخاص لوگوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ بدحال بنا رکھا ہے۔ جن کا زور صرف اپنے آبائی علاقوں میں ہی نہیں اسمبلیوں میں بھی چلتا ہے۔۔ تھانے ان کے ، کچہریاں ان کی، پٹوار ان کا سرکار ان کی۔ یہ جو بولے وہی قانون اوروہی انصاف۔

خون میں لت پت اس خوبصورت ناری تانیہ کی لاش چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہے۔۔ ''میرا کیا گناہ تھا؟ آنکھوں میں جھلملاتے خوابوں کے چراغ جلا رکھے تھے یہی بڑا گناہ تھا؟ کیا غریب آدمی سپنا بھی نہیں دیکھ سکتا؟ یا پھر بڑا قصور یہ تھا کہ میں نے ایک وڈیرے کی پیشکش ٹھکرا دی'' ۔۔ دھن دولت کے خمار میں مست، طاقت کے نشے میں دھت، انا کے آہنی حصار میں قید وڈیروں کو کیوں یہ احساس نہیں کہ غریبوں کو بھی جینے کا حق حاصل ہے۔ ان کی بھی عزت نفس ہوتی ہے۔ شاید میں جذباتی دھارے میں بہہ گیا کہ ان وڈیروں کے نزدیک تو غریب لوگوں کو جینے کا حق ہی نہیں ہے کہیں ان پر کتے چھوڑے جارہےہیں کہیں انہیں بھڑکتی آگ کے شعلوں میں پھینکا جاتا ہے تو کہیں اپنا حق مانگنے پر ان کی کلائیاں کاٹی جاتی ہیں۔ یہ ہے ان بے زبانوں کی حقیقت ۔ ان کا جینا مرنا صرف اور صرف خاص الخاص لوگوں کو خوش کرنے کیلئے ہے۔

حکومت کے بڑے بڑے دعوے کہ ملک میں جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے۔۔ یہ محض خالی خولی نعرہ ہے اس سے کیا ۔ کراچی میں سیٹھ کے بگڑے لاڈلے کے ہاتھوں جان سے جانے والے شاہ زیب کا واقعہ ہو یا تانیہ کا قتل، ان سب کے پیچھے ایک ہی مائنڈ سیٹ ہے۔ جس کے مطابق غربت کی چکی میں پیسنے والوں کی کوئی اوقات نہیں ۔ ان کی جان جائے تو جائے کوئی بات نہیں۔ ان کی عزت خاک میں ملے تو کونسا آسمان ٹوٹ پڑے گا۔ وڈیروں کا ملک، وڈیروں کی سلطنت اور وڈیروں کی حکمرانی۔۔۔ کون اپنی جان کا دشمن ہوگا جو ان کے سامنے ٹکے۔ سماء

ISLAM

FEUDAL LORD

Tania

Sindh culture

Tabool ads will show in this div