وزیراعظم 21 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریںگے

اقوام متحدہ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نیو یارک کے چار روزہ دورے کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ کئی عالمی راہنماﺅں سے ملاقات کریں گے، جس میں وہ مسئلہ کشمیر، میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے بحران اور افغانستان کی صورتحال پر توجہ مرکوز کریں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے پاکستانی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکی نائب صدر مائیک پینس سمیت 9 دوطرفہ ملاقاتیں طے پاچکی ہیں اور مزید متوقع ہیں۔ دیگر میں اردن کے شاہ کے علاوہ ترکی، افغانستان، سری لنکا، ایران، برطانیہ اور نیپال کے رہنماﺅں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹرش سے بھی ملیں گے۔

ملیحہ لودھی نے بتایا کہ وزیراعظم سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور بعض امریکی راہنماﺅں سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 21 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے وہ بین الاقوامی سیاست اور اہم سیاسی، سماجی اور ترقیاتی ایشو پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ امریکا نے پاکستانی رہنماء کے ساتھ اپنے نائب صدر مائیک پینس کی ملاقات تجویز کی ہے کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ ازسرنو رابطے کے خواہاں ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق یہ ملاقات منگل کو ہوگی جو افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے بارے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی کے تناظر میں ہوگی۔ اس بریفنگ میں موجود امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا کا افغانستان کے بارے میں اپنا نکتہ نظر ہے اور پاکستان کا اپنا موقف ہے۔

سفیر ملیحہ لودھی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قومی مفاد پر مبنی پاکستان کی پالیسیاں واشنگٹن میں نہیں اسلام آباد میں مرتب کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہ مسلسل موقف رہا ہے کہ مذاکراتی تصفیہ کے ذریعے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خارجہ تعلقات کے بارے میں کونسل اور امریکی پاکستان بزنس کونسل سے بھی خطاب کریں گے۔ وہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے بھی ملاقات کریں گے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران او آئی سی، نام، جی 77، ای سی اوم، سارک، دولت مشترکہ، ڈی 8 سمیت علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے وزارتی اجلاس بھی منعقد ہوں گے اس موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کا اجلاس بھی ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد اقوام متحدہ کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ اے پی پی

kashmir issue

rohingya muslims

Foreign policy

PM visit

Dr Maleeha Lodhi

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div