روسی زاپاڈ 2017 فوجی مشقوں سے نیٹوکو تشویش

 

تحریر : کامران اسلم ہوت

جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی ملک اپنی سرحدی حدود کے اندر فوجی مشقیں کرے تو وہ دوسرے ملک پر جنگ مسلط کرنے کی تیاری کررہا ہو ۔ فوجی مشقیں ایک معمول کی کاروائی ہوتی ہے اور ہرملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ مہارت کو جانچنے کے لیے ان مشقوں کا انقعاد کرے۔

رواں ماہ میں روس وسیع پیمانے پر زاپاڈ 2017 نامی فوجی مشقوں کا آغاز کر رہاہے۔فوجی ماہرین کے مطابق یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے روس کی سب سے بڑی مشقیں ہوں گی ۔ روس ان مشقوں کا دائرہ کاربیلا روس تک پھیلا ئے گا ۔واضح رہے کہ بیلا روس کی سرحدیں نیٹو کے تین رکن ممالک (پولینڈ،ایسٹونیااور لیتھوانیا) سے ملتی ہیں اوریہی بات نیٹو کو تشویش میں مبتلا کر تی ہے ۔نیٹو کے مطابق ان مشقوں میں تقریباساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تک فوجی حصہ لیں گے۔بیلا روس کے وزراتِ دفاع کے مطابق مشقوں میں حصہ لینے والے فوجیوں کی تعداد ان اعداد و شمار سے کہیں کم ہے جتنی نیٹو ذرائع بتا رہے ہیں۔

    زاپاڈ نامی فوجی مشقیں ہر چار سال بعد ہوتی ہیں اور یہ اس زمانے سے ہو رہی ہیں جب سویت یونین سپر پاور تھا ۔ تب سے ان مشقوں کا بنیادی مقصد وارسا پیکٹ میں شامل ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ وارسا پیکٹ کے ممالک کا تعلق مشرقی یورپ سے تھا ، جن میں مشرقی جرمنی ، پولینڈ ، ہنگری اور چیکو سلواکیہ شامل تھے، جب کہ سویت یونین میں شامل دیگر ریاستیں اور زیرِ اثر ممالک بھی فوجی مشقوں میں حصہ لیتے تھے۔ ولادی میر پیوٹن نے صدارت سنبھالنے کے بعد روس کی عظمتِ رفتہ بحال کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد شروع کیا  تو روس کی فوجی طاقت میں اضافے کو اپنی پالیسی کا اہم جز بنایا۔نیٹو کے مطابق پیوٹن نے زاپاڈ فوجی مشقوں کو دوبارہ فعال کر دیاہے۔

  مبصرین کے مطابق ستمبر میں روسی فوجی دستے ان مشقوں میں حصہ لینے کے لیے جمع ہونا شروع ہو جائیں گے، جنہیں بعدازاں حملہ آورفوجی دستوں کی معاونت بھی حاصل ہو جائے گی اور دوسری عالمی جنگ کے شہرت یافتہ فرسٹ گارڈ کے ٹینکس بھی ان مشقوں کا حصہ ہوں گے۔ان ٹینکس سے متعلق مغربی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ برق رفتار اور طاقت ور حملے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔انہیں 2015 میں جدید ہتھیاروں سے لیس کیا گیا  تا کہ جنگوں میں کام آسکیں۔

زاپاڈ 2017 مشقوں سے روس اپنی بھر پو ر فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ روس کتنی سرعت سے اپنی افواج کو وسیع رقبے پر پھیلے ملک میں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرسکتا ہے اور یہی چیز نیٹو کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔

RUSSIA

NATO

MILITARY EXERCISE

Tabool ads will show in this div