کراچی،فیصل آباد،گوجرانوالہ،جھنگ میں 10مجرموں کوپھانسی،دوکی مؤخر

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


کراچی/فیصل آباد/گوجرانوالہ/جھنگ/ملتان/ڈیرہ غازی خان  :   خون کے بدلہ خون پر قاتلوں کی سزائے موت کا سلسلہ جاری ہے۔ قتل کے مزید بارہ مجرموں کو انجام تک پہنچا دیا گیا۔ سینٹرل جیل کراچی  میں دو اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں دس مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں صلح نامہ جمع کرانے پر دو مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا۔

قتل کے مجرموں اپنے بھیانک انجام کو پہنچنے کیلئے تختہ دار پر جھول گئے، کراچی کی سینٹرل جیل میں محمد افضل اور محمد فیصل کو پھانسی دی گئی، دونوں نے کورنگی میں ڈکیتی کے دوران عبدالجبار کو قتل کیا تھا۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی ندیم زمان اور محمد جاوید کو پھانسی پر چڑھایا گیا، دونوں کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزا موت سنائی گئی تھی۔ ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں مبشر ، شریف اور ریاض کو سزائے موت دی گئی۔ ریاض نے 1995 میں گھریلو جھگڑے پر ایک شخص کو قتل کیا تھا۔ مبشر اور شریف نے ٹیکسی ڈرائیور کو اغوا کے بعد مار ڈالا تھا۔

ڈسٹرکٹ جیل میانوالی میں بھی دو مجرموں کو پھانسی دی گئی، ظفراقبال کو والد کے قتل اور رب نواز کو خاتون کی جان لینے پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ سینٹرل جیل فیصل آباد میں محمد نواز کو پھانسی دی گئی۔ نواز نے 1992 میں پانی کی نکاسی کے جھگڑے پر دو افراد کو قتل کیا تھا۔

گوجرانوالہ میں قتل کے مجرم محمد اقبال کو پھانسی پر چڑھایا گیا، اقبال نے 13 اگست 1996 کو اپنے قریبی رشتے دار کو قتل کیا تھا۔ ڈیرہ غازی خان میں قتل کے مجرم اصغر علی کی پھانسی روک دی گئی۔ مقتول کے ورثا کی جانب سے راضی نامہ پیش کرنے کی بنا پر سزائے موت پر عملدرآمد روکا گیا۔

ملتان میں قتل کے ایک مجرم ظفر اقبال کو پھانسی دے دی گئی، ظفر نے 1996 ميں بچی کو زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کیا تھا، ملتان میں قتل کے ایک اور مجرم وقار نذیر کی سزائے موت فریقین کا صلح نامہ پیش کرنے پر روک دی گئی۔ سماء

میں

Tabool ads will show in this div