ہاکس بے میں کون ڈوبا؟ سندھ حکومت یا معصوم شہری

۔۔۔۔۔**  تحریر ؛ فرحان عادل  **۔۔۔۔۔

کراچی کے ساحل پر گزشتہ روز المناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد جاں بحق ہوگئے، اطلاعات کے مطابق پہلے 3 افراد ڈوبے جنہیں بچانے کیلئے دیگر افراد بھی مدد کی غرض سے پانی میں اترے اور ایک ایک کرکے بچی سمیت تمام 12 افراد زندگی کی بازی ہارتے چلے گئے، مرنے والوں میں باپ، بیٹی، 4 جوان بھائی اور خاندان کے دیگر افراد شامل تھے جو ناظم آباد، نارتھ کراچی، شادمان اور دیگر علاقوں سے پکنک کیلئے ہاکس بے کے ساحل پر آئے تھے۔

درد ناک واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے افسوس کا اظہار کیا ہے، اس سے قبل بھی کراچی کے ساحلوں پر تفریح کیلئے جانے والوں کے ساتھ کئی حادثات ہوچکے ہیں جس میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں تاہم ہر بار کی طرح اس بار بھی حکومت نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے سمندر میں نہانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کردی، اگر ساحل پر لائف گارڈز موجود ہوتے تو یقیناً ڈوبنے والے افراد کو بچایا جاسکتا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ کروڑوں روپے سالانہ آمدنی دینے والے کراچی کے ساحلی مقامات پر آج تک تفریح کیلئے آنے والوں کی سہولت کیلئے حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے، کئی مقامات پر اینٹری فیس، درجنوں ریسٹورانٹس، اسٹالز، پارکنگ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونیوالی آمدنی آخر جاتی کہاں ہے، اس کا کتنا فیصد حصہ تقریباً 50 کلو میٹر پر محیط اس تفریحی ساحلی پٹی کی ترقی کیلئے خرچ کیا جاتا ہے۔

ساحل سمندر پر پیش آنیوالا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی کراچی کے تفریحی ساحلی مقامات پر متعدد حادثات پیش آچکے ہیں، 2014ء میں عید کے روز کلفٹن کے ساحل پر ڈوب کر تقریباً 2 درجن افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جبکہ رواں سال مئی 2017ء کے ایک ہفتے کے دوران ہاکس بے اور دو دریا سمیت دیگر مقامات پر 13 افراد ڈوب کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

کیا حکمرانوں اور انتظامی امور کے ذمہ داروں کی جانب سے ایسے واقعات کی مذمت، افسوس کا اظہار اور تحقیقات کیلئے کمیٹیاں بنادینا کافی ہے، سوچنا یہ ہے کہ کیا دفعہ 144 لگانا اور لوگوں کو پانی میں جانے سے روکنا ہی مسئلے کا حل ہے؟، لوگوں کو بچانے کیلئے کیا ساحل سمندر پر کوئی انتظام ہے؟، کیا لائف گارڈز کی سہولت موجود ہے؟، ایسے افراد کو فوری طبی امدد دینے کیلئے قریبی علاقے میں کوئی اسپتال موجود ہے؟، ہرگز نہیں۔

ماڑی پور روڈ سے ہاکس بے کی ساحلی پٹی کے قرب و جوار میں کئی لاکھ افراد آباد ہیں تاہم تفریح کیلئے آنے والوں کو پیش آنیوالے حادثات اور وہاں مقیم شہریوں کو پیش آنے والی عام طبی ضروریات کیلئے کوئی اسپتال موجود نہیں ہے، ایسے المیے اور پے در پے حادثات کی روک تھام کیلئے مؤثر اور مناسب انتظامات نہ کرنا ایک مجرمانہ غفلت ہے جو کہ حکمرانوں کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایسے حادثات میں عام شہری نہیں بلکہ سندھ حکومت ہی ڈوب گئی ہے۔

ہمارا حکمرانوں سے صرف یہ ہی مطالبہ ہے کہ انسانی زندگی کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہئے، ایسے واقعات سے بچنے کیلئے دفعہ 144 کافی نہیں، کراچی کے ساحلی علاقے کو اسپتال اور لائف گارڈز کے مؤثر نظام کی اشد ضرورت ہے، اس امر سے نہ صرف ہزاروں افراد کی جان بچائی جاسکے گی بلکہ ساحلی پٹی پر آباد تیراکی کے ماہر اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

son

picnic point

Hawks bay

12 dead

Karachi Sea view

Family Drown

Life Guards

Tabool ads will show in this div