کم کاربو ہائیڈریٹ والی خوراک یادداشت اور لمبی زندگی کی ضامن

واشنگٹن: امریکا کے ماہریں صحت کا کہنا ہے کہ کم کاربو ہائیڈریٹ والی "کیٹوجینک ڈائٹ" خوراک، یادداشت اور لمبی زندگی کی ضمانت ہے۔

بک انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ نوواٹو کے ماہرین ایرک ورڈِن اور جان نیومن کی جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کیٹوجینک غذاوں سے جہاں بہت سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں حافظہ بہت اچھا ہوتا ہے اور یہ طویل زندگی میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کیٹوجینک غذائیں مصنوعی رنگوں اور ملاوٹ سے پاک قدرتی غذاوں کو کہا جاتا ہے جن میں کاربو ہائیڈریٹس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جبکہ چکنائی زیادہ اور پروٹین بھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ کیٹو کے اثرات عین روزے یا فاقے کی طرح تھے اور اس کے علاوہ یہ دل کی افعال کو درست رکھنے، گلوکوز کو اعتدال پر رکھنے اور دماغی صحت پر اچھے اثرات میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کیٹو غذائیں جسم میں بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹریٹ (بی ایچ بی) کی مقدار بڑھاتی ہیں جس سے دماغ سرگرمی، یادداشت اور کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی جبکہ بی ایچ بی بڑھاپے کو دور رکھتی ہے اور اہم اعضا اور ٹشو کو بھی درست حالت میں رکھتی ہے۔

کیٹوجینک غذا میں لحمیات اور پروٹین زیادہ جبکہ کاربو ہائیڈریٹس بہت کم کھائے جاتے ہیں۔ ان غذاوں میں گھاس چرنے والے میویشیوں کا گوشت، گھی، تیل، زیتون کا تیل، چکنائی والی مچھلی، انڈے، مغزیات، پھلیاں، خشک گری دار میوے، ایواکاڈو، زمین سے اوپر اگنے والی سبزیاں اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ اے پی پی

medical experts

Olive Oil

Tabool ads will show in this div