جمہوریت ہے جس کانام

تحریر: مہدی قاضی

گزشتہ 17 برسوں کا اگرپاکستان کابغورجائزہ لیاجائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں پر ایک مخصوص فضا قائم کی گئی ہے۔ بالخصوص بی بی کی شہادت کے بعد سے اب تک جو سیاسی منظر نامہ ہے اس میں سیاست دان، صحافی ،سول اور ملٹری بیوروکریٹس شامل ہیں۔ یہ لوگ جمہوریت کیلئے اتنے محتاط ہیں جتنا دودھ سے جلنے والا چھاچھ پیتے وقت بھی نہیں ہوتا۔

قائم کی جانے والی اس فضا میں جمہوریت کو حکمِ خداوندی کا درجہ دے کر آزادی اظہار رائے پر جو پابندی لگائی گئی ہے۔ معلوم نہیں لوگ اس کو سمجھ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔جمہوریت بہترین انتقام ہے جیسے جملوں نے بڑی ڈھٹائی سے جمہوریت کو احتساب کے کٹہرے سے نکال کر تحفظ فراہم کردیا ہے۔ میں اکثر ٹی وی پر دیکھتا ہوں سیاست دان کس طرح میاں صاحب کے نا اہل ہونے کو جمہوریت پرضرب مارنے اور بعض جمہوریت کے مضبوط ہوجانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جمہوریت کو بطور آسمانی صحیفہ قبول کر رکھا ہے کہ اگر کسی نے اس طرزِ حکمرانی میں میخ نکالی تو وہ واجب القتل ہے، اُسے سنگسار کر دیا جائے۔ کیوں کہ جو میلان ان لوگوں کا جمہوریت کی جانب میں دیکھ رہا ہوں اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ جمہوریت کی الف ب بھی نہیں جانتے۔

جدید ریاستوں میں یہ طرزِ حکمرانی عقلیات کے بل پر چلائی جاتی ہے۔ جہاں کسی بھی مسئلے کے سامنے آنے میں 30، 35 برس نہیں لگتے۔ بلکہ ان کی فکر کا سانچہ اس قدر زبردست ہے کہ ان مسائل کی قبل از وقت نشاندہی کرکے ان کے حل پر کام شروع کردیتے ہیں جس کےسبب اگرمسئلہ درپیش بھی آتاہے توشدت حد درجہ کم ہوجاتی ہے۔ ان مسائل سےمیری مرادان ممالک کےاندرونی پالیسیاں ہیں۔ کیوں کہ جوانہیں محسوس ہوتا ہےکہ ان لوگوں کیلئےبہترین ہے،یہ لوگ وہی کرتے ہیں۔عرب ممالک اور دیگر مغربی ممالک سے ہمیں لاکھ اختلاف صحیح لیکن دیکھنااس چیز کوہےکہ دونوں خطوں میں علیحدہ طرزِ حکمرانی ہونے کےباوجود عوام کی اکثریت کو اپنے حکمرانوں سے کچھ سروکار نہیں اور پھر بھی محض وہاں بدعنوانی کےالزامات لگنے پرلوگ اپنا عہدہ چھوڑدیتے ہیں۔عرب ممالک کی بات نہ کیجئے وہاں ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں لیکن انہوں نے اپنے شہریوں کے بنیادی تقاضوں جیسے کہ پانی روٹی وغیرہ کویقینی بنایا ہوا ہے۔

بہر کیف مدعے پر واپس آتے ہیں۔ قائم کی جانے والی اس فضا میں قوم کو باور کرایا گیا کہ جمہوریت ہی ارضِ پاک کی نجاتِ دہندہ ہےتوجان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ حاکم کا بارگاہِ الٰہی میں احتساب اس معیار پر نہیں ہوگا کہ وہ آمریت کے  خلاف کتنا لڑا اور جمہوریت کیلئے کتنی قربانیاں دیں بلکہ اس بات پر ہوگا کہ کیا وہ عدل قائم کرنے اور رکھنے میں کامیاب ہوا بھی کہ نہیں۔

nation

STATE

Tabool ads will show in this div