خیبرٹو،تیراہ میں توپیں گولےاگلنےلگیں،8دہشتگردوں کاصفایا،6زخمی

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر:


لنڈی کوتل  :   خیبر ایجنسی میں پاک فوج کی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ جاری ہے، آپریشن خیبر ٹو میں سیکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا، جب کہ کامیاب کارروائی میں چھ دہشت گرد زخمی اور کئی ٹھکانے تباہ بھی ہوئے۔

عسکری ذرائع کے مطابق خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کی کمین گاہوں کو بھاری توپ خانوں سے نشانہ بنایا گیا، توپ خانوں کی گولا باری سے آٹھ دہشت گردوں کو جہنم واصل جب کہ چھ کو زخمی کیا گیا، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کامیاب کارروائی میں دہشت گردوں کی متعدد پناہ گاہیں بھی تباہ ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ تاہم مرنے والے دہشت گردوں کی شناخت سے متعلق تصدیق نہیں ہوسکی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل تیئس مارچ کی شب بھی لڑاکا طیاروں کی کامیاب کارروائی میں پاک فوج کو اہم کامیابیاں ملیں۔ پاک فوج کی جانب سے خیبر ایجنسی بالخصوص باڑہ میں اٹھارہ مارچ کے بعد کارروائیوں میں اضافہ کیا گیا، جو افغانستان کے علاقے نازیان سے ملحقہ ہے۔ خیبر ایجنسی پاکستان کے سات قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے جو افغان سرحد کے ساتھ واقع ہیں۔

پاک فوج کی جانب سے پندرہ جون کو آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کا آغاز کیا گیا اور شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں تک بڑھایا، جس کے بعد دہشت گردوں کے اہم گڑھ خیبر ایجنسی اور ملحقہ علاقوں میں ’آپریشن خیبرون‘ اور 'آپریشن خیبر ٹو کے نام سے نئی کارروائی اور آپریشن کا آغاز کیا گیا اور کارروائیاں تیز کی گئی۔

 

لڑاکا طیاروں کی جانب سے ہونے والے فضائی حملوں کا بنیادی ہدف وہ علاقے  بنے،  جنہیں کالعدم لشکر اسلام کے دہشت گرد  گروپ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں سادانا، مازا تھل اور خیبر سنگر کے علاقے شامل تھے۔  اٹھارہ مارچ سے شروع ہونے والی شدید جھڑپیں اس وقت دوبارہ شروع ہوئیں، جب افغانستان کی سرحد کے قریب خیبر سنگار کی چوکی پر  دہشت گردوں  نے دوبارہ قبضہ کرلیا۔پاک فوج نے غلام علی پہاڑی کی چوٹی، تختہ کئی اور ناگروسا کی چوٹیوں سمیت اہم پہاڑی علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کیا۔ سماء

میں

Tabool ads will show in this div