خود فریبی

تحریر: طاہر نصرت

خود فریبی اور خود ترسی کا جس معاشرے میں بول بالا ہو۔ اس پر کہئے بھی تو کیا؟ یہ ایسے عفریت ہیں کہ کسی بھی معاشرے کیلئے تباہی کے اسباب لاتے ہیں۔ وقت کی پکار پر لبیک نہ کہنے والے خوش فہمی کے گھوڑے پر سوار ہو کر جب خواہشات کے سدا بہار باغ کی جانب نکلتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو کررہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں۔ ان کی آواز ہی ان کیلئے قانون، ان کے نعرے ہی ان کی ترقی اور ان کے مفادات ہی ان کا اصل مقصد ہیں۔

مگر حقیقت سے بے خبر، حالات سے ناواقف اور اصلیت سے آنکھیں پھیرنے والے جب خارزار زندگی کی ایسی تاریک سرنگ میں پھنس جاتے ہیں جس کے آخری سرے پر بھی امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تو پھر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا، کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ خود فریبی انسانی بیوقوفی پر کھلکھلا کے ہنس دیتی ہے۔

پہلی جنگ عظیم سے پہلے زار روس بھی خود کو بہت محفوظ سمجھتا تھا۔ عوام کو حقیر اور خود کو بے مثال و بے نظیر سمجھتا تھا۔ مگر یہ اس کی بھول تھی، ناسمجھی تھی یا خود فریبی کیونکہ وقت نے جب کروٹ لی تو روس کی تاریخ، تہذیب و تمدن کا دھارا ہی پلٹ گیا۔ پھر کیا زار اور کیا اس کا معیار؟ سب کچھ اتھل پتھل ہوگیا۔

دوسری جنگ عظیم کے اکھاڑے میں ہٹلر نامی ماہان پہلوان بڑے طمطراق سے اترا تھا۔ اس کی خود فریبی کہ جرمنی سب سے اعلیٰ اور نرالا ہے۔ اس کا کوئی توڑ ہی نہیں۔ اس کے سامنے تو باقی ممالک ہیچ ہیں۔ مگر حقیقت ہمیشہ سخت فیصلے کرتی ہے اور جب وقت نے فیصلہ دیا تو ہٹلر کی ہٹلری تو رہی نہیں ساتھ میں برطانیہ جیسے بڑے پہلوان کے رگ و پٹے بھی ڈھیلے کرگیا۔

خود فریبی حقیقت کو جھٹلانے کا جتن ہے۔ تاریخ کو بگاڑنے کی ناکام کوشش۔ مگر کچھ لوگ پھر بھی تاریخ کا رخ موڑنے پر تلے ہیں۔ خود کو ناقابل شکست جنگجو سمجھتے ہیں مگر یہ ان کی بھول ہے۔ وقت بڑا ظالم منصف ہے۔ بڑا بے درد مسیحا ہے۔ کسی کے زخم ہرے کردیتا ہے تو کسی پر مرحم لگا لیتا ہے۔

بھارت اور افغانستان کی شرارت پر وڈے بدمعاش نے بالآخر دل کی بات کر ہی دی۔ اس میں ہر گز اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ وہی پرانا طریقہ کار، ڈو مور کا تقاضا۔ امداد کا لالی پاپ، یعنی چلتے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کا شوشہ۔ مگر ٹرمپ اینڈ کمپنی اور اس کے حواری شاید بھول رہے ہیں کہ یہ وہ پاکستان نہیں جو کبھی امریکہ کےزیراثر تھا۔ یہ نیا پاکستان ہے۔ ترجیحات بدل گئی ہیں۔ وقت نے کھرے اور کھوٹے کی پہچان سکھا دی ہے۔ کون دشمن ہے اور کون دوست۔ پاکستانی قوم پر سب واضح ہوچکا ہے۔ اسی لئے تو چین سمیت دیگر ممالک بھی کہہ رہے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔ بڑھک بازی سے ماحول توخراب ہوگا مگر ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔

خود فریبی کے ریشمی لبادے میں رہنے والے یہ کیوں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ افغانستان میں امن لانا ہے تو پاکستان کو دھمکی سے نہیں تھپکی کے ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ یہ کوئی بنانا ریپبلک نہیں۔ ایٹمی ملک ہے۔ جس کی فولادی افواج ہر دم ہرقسم کے حالات کیلئے تیارکھڑی ہیں۔ مہم جو امریکہ کو جنگی محاذ پر اکثر و بیشتر منہ کی کھانا پڑی مگر پھر بھی یہی رٹ کہ اس میدان کا وہ بڑا پہلوان۔ کیسا آخر کیسا اور کیونکر؟ عالمی افق پر جو آثار نمودار ہو رہے ہیں وہ امریکہ کیلئے کوئی اچھا شگون نہیں۔ احسان فراموش امریکہ کے بیان کا اور کچھ اثر ہو نہ ہو پاکستان کو سفارتی محاذ پر زبردست حمایت مل رہی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی رواں ماہ امریکا جائیں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہی بہترین موقع اور پر اثر پلیٹ فارم ہے کہ دنیا کو بتادیا جائے۔ دہشتگردی کا خالق کون؟ اور اس کو بھگتنے والے کون؟

عالمی امن کی خاطر کیا کچھ نہ جھیلا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی سرزمین پیش کی، سڑکیں پیش کیں، ہوائی اڈے فراہم کئے۔ جنگ تیری مگر نقصان ہمارا۔ واہ واہ تیری مگر ملامت ہمارے حصے میں آئی۔ ہزاروں کی تعداد میں فوجی و شہری قربان ہوئے۔ انفراسٹرکچر کا بے تحاشا نقصان ہوا۔ پھر بھی ہم پر الزام کہ ہم دہشت گردوں کے سرپرست ہیں؟

وقت آگیا ہے کہ بڑے بدمعاش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جائے ۔۔ جناب خود فریبی کے اس طلسماتی حصار سے نکل آئیے۔۔ بڑبولیوں اور امداد کی گڑ گولیوں پر یہ نڈر اور بہادر قوم مزید نہیں جھکنے والی۔

عالمی امن کے ٹھیکیداروں پر بھی یہ واضح کیا جائے کہ وقت کو جب تاؤ آتا ہے تو خود فریبی اور خوش فہمی کے بت ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتےہیں۔ روئے زمین پر بڑے بڑے پھنے خان تھے کہاں گئے؟ کہاں گئے وہ طاقتور لوگ؟ ایک بات اٹل ہے ہر دور کی کچھ ضروریات ہوتی ہیں اور ہرضرورت کا ایک وقت مقرر ہے۔۔ معاملہ ذرا ادھر ادھر ہوجائے تو تاریخ کی گرد جم جاتی ہے او اس کی دبیز تہہ کے نیچے سب دفن ہوجاتا ہے۔

RUSSIA

WAR AGAINST TERRORISM

Pakistan PM

World War

Tabool ads will show in this div