حجاج کیلئے جدید ضرورتوں سے آرستہ ، فائر پروف خیمے

Sep 01, 2017

مکہ: سعودی حکومت نے امسال حجاج کرام کی سہولت کے لئے فائر پروف خیموں کا اہتمام کیا، کم وقت میں 20 لاکھ حاجیوں کے لئے منیٰ میں فائر پروف خیموں کی تیاری بڑا چیلنج تھا۔

خیموں کی مجموعی تعداد 40 ہزار ہے جو 25 لاکھ مکعب میٹر زمین پر نصب کئے گئے ، ایک ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی۔ 16 لاکھ سے زیادہ حاجی ان میں ٹھہر سکتے ہیں۔

سعودی وزارت تعمیرات و آبادکاری نے فائر پروف خیموں کا منصوبہ نافذ کیا ہے ۔ پاکستان سے آنے والے تمام حاجی فائر پروف خیموں میں ٹھہرائے جاتے ہیں۔ خیموں کا ڈھانچہ سلاخوں سے تیار کیا گیاہے۔ کپڑا فائر پروف ہے۔

خیموں کے بالائی حصے تک ایک پائپ لائن بچھائی گئی ہے جس سے آتشزدگی کی صورت میں خود کار نظام کے ذریعے پانی برسنے لگتا ہے۔ ہر خیمہ 4 حصوں پر مشتمل ہے۔ ہر حصہ میں8 سے10 افراد تک رہ سکتے ہیں۔ ہر 10 خیموں کیلئے آگ بجھانے والے 30،30 میٹر لمبے پائپ ایک صندوق میں مخصوص کئے گئے ہیں۔ ہر خیمے میں 2 دستی سلنڈر آگ بجھانے کیلئے رکھے گئے ہیں۔

کیچڑ اور پانی جمع ہونے سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کیلئے ٹائل لگائے گئے ہیں۔سارے نظام کا تجربہ کرکے اطمینان بھی کرلیا گیا ہے۔ فائر پروف خیموں کے تیسرے مرحلہ کی تکمیل کیلئے منیٰ، عرفات میں 15 سے زیادہ یگر منصوبے بھی نافذ کئے گئے ہیں۔

خیموں کیلئے مختص علاقے میں موجود احاطے کی عمارتیں اور پہاڑی ٹیلے صاف کئے گئے ہیں۔ پہاڑوں کو کاٹ کر خیموں کیلئے دیواریں بنا دی گئی ہیں۔ بجلی اور پانی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ سماء/اے پی پی

SAUDIA ARAB

the city of tent

fire proof tent

Tabool ads will show in this div