ایک نئی مصیبت

تحریر: سالار سلیمان

اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ٹرمپ امریکی تاریخ کے اُن صدور میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اپنی مقبولیت تیزی سے کھونا شروع کر دی۔ وہی ٹرمپ جو اپنے انتخابات اور انتخابات سے پہلے افغان جنگ کے ناقد سمجھے جاتے تھے، اب ’’ریڈیکل اسلام‘‘ کی اصلاح متعارف کروانے کے بعد افغان جنگ کو طول دینے کے در پے ہیں۔

حال ہی میں اُنہوں نے جنوبی ایشیاء سے متعلق اپنی پالیسی کو واضح کیا ہے۔ وہ افغان جنگ جو کہ اوباما کے دور میں تقریباً ختم ہو چکی تھی اور اتحادی افواج اپنی ذلت کا پرچم لپیٹ کر وہاں سے نکل رہی تھیں، ٹرمپ اُس کو نئے طریقے سے شروع کرنا چاہ رہے ہیں۔ اپنی تقریر میں پاکستان کے حوالے سے انہوں نے انتہائی واضح اور سخت ترین الزامات لگائے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کو خطے کی چوکیداری سے تھانیداری کا عہدہ عنایت کرتے ہوئے ترقی بھی دی ہے۔ اس سے چین اور پاکستان کو شدید تحفظا ت بھی ہونگے کیونکہ بھارت سی پیک کا ازلی دشمن ہے۔ بھارت کو افغانستان میں اسٹیک دینے کی بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ آخر اُس ملک کو کیوں اسٹیک دیا جا رہا ہے جس کا بارڈر براہ راست اُس ملک کے ساتھ منسلک نہیں ہے بلکہ درمیان میں ایک اور ملک بھی آباد ہے؟ یہ بات تو ڈھکی چھپی ہے ہی نہیں کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان کے بلوچستان میں در اندازیا کرتا ہے اور اس ’ترقی‘ کے بعد اب خیبر پختونخواہ کا امن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

اس ایک ہفتے میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے حقائق میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کتنا ہے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ پاکستان میں دہشت گرد عناصر کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔ پاکستان نے تاریخ کی مشکل ترین جنگ لڑی اور ابھی بھی حالت جنگ میں ہے۔ یہ جنگ ہمارے سابق کمانڈو حکمران کی بدولت ہمارے گلے میں پڑی تھی، جس کے بعد ہمارا مغربی بارڈر بھی غیر محفوظ ہو گیا تھا۔ اس جنگ کے بعد پاکستان پہلے جیسا پر امن پاکستان بھی نہ رہا اور ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ خود کش حملے اس قوم کیلئے معمول کی بات بن گئے تھے۔ روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں نے اس قوم کو بحیثیت مجموعی بے حس بنا دیا تھا۔ اُس کے بعد پاکستانی فوج نے دنیا کے مشکل ترین محاذ پر دنیا کی مشکل ترین جنگ لڑی اور آج خود کش دھماکوں میں 95 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ کیا یہ کامیابی نہیں؟ پاکستان نے جب قبائلی علاقوں میں آپریشن کئے تو سب نے کہا تھا کہ جس گوند کے تالاب میں پاکستان چھلانگ لگا رہا ہے، وہاں کامیابی کے امکانات 10 فیصد بھی نہیں ہیں لیکن ہماری فوج نے بہت بڑا رسک لیتے ہوئے تاریخ تبدیل کی ہے۔ کیا یہ کامیابی نہیں؟ اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد افغانستان فرار ہوگئے اور آج اُن کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ جب کوئی دہشت گر د یا گروہ گرفتار ہوتا ہے تو اُن کے پاس سے امریکی، بھارتی یا اسرائیلی اسلحہ برآمد ہوتا ہے؟

ٹرمپ نے واضح الفاظ میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوگی بلکہ جاری رہے گی۔ یہاں کچھ سوالات درکار ہیں؟ امریکہ پر اس وقت کل 20 ٹریلین ڈالر کا قرض موجود ہے۔ نائن الیون کے سال امریکا پر 5807 ارب ڈالر کا قرض تھا جو کہ اس سال 20 ہزار ارب ڈالر یعنی 20 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ی ہ باتیں بھی امریکی ذرائع کرتے ہیں کہ امریکی فوجیوں میں نفسیاتی بیماریاں 87 فیصد اضافے کے ساتھ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں اور اُن کا نفسیاتی علاج بھی جاری ہے۔ امریکا نائن الیون کے بعد مزید غیر محفوظ ہوا ہے۔ اب اگر میزان بنایا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وار آن ٹیرر پر امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے رج کے ہارا ہے۔ طالبان اور القاعدہ سے لڑنے نکلے تھے اور داعش کی مصیبت گلے ڈال لی ہے، اگرچہ اس بابت بھی سوال ہیں کہ داعش کا وجود کیسے ہوا؟ امریکی قوم میں ڈپریشن اور اسٹریس میں اضافہ اور ’اِن سکیورٹی‘ بھی بڑھی ہے۔ اگر کل ملا کر مسائل میں اضافہ ہوا ہے تو فائدہ کیا ہواہے؟ ہاں آپ کی اسلحہ اور جنگ سے منسلک صنعت تو خیر سے پھل پھول کر اب بچے جن رہی ہے تو وہ ایک الگ بات ہے۔

پاکستان کی پالیسی بالکل درست ہے۔ امریکا کو راضی کرنے کی بجائے روس اور چین کو اعتماد میں لینا ایک دانشمندانہ قدم ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ اگر خدانخواستہ پاکستان پر کوئی نئی جنگ مسلط کی جاتی ہے تو پھر اس خطے کا کوئی بھی ملک غیر تعلق اور غیر جانبدار تو نہیں رہ سکے گا۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ یہ اللہ بہتر جانتا ہے اور ہم اللہ سے بہتری اور پاکستان کی غیر طلب کرتے ہیں۔

RUSSIA

CHINA

War on Terror

President Donald Trump

US policy

Tabool ads will show in this div