آپ کی جنگ،آپ کاسردرد

 

بے شک افغان جنگ امریکا کیلئے گلے میں پھنسی ہوئی اس ہڈی کی طرح ہے، جسے نہ وہ نگل سکتا ہے اور نہ اگل سکتا ہے اور اس کا اعتراف بالاآخر امریکی جنرل کو دنیا کے سامنے کرنا ہی پڑا۔ پھر امریکی کی ناکامی اور افغان جنگ کا ملبہ پاکستان پر کیوں ؟ اپنی ناکامیوں کے بعد غصہ ہم پر کیوں؟امریکا کو افغانستان میں آئے تقریباً 16 سال ہوچکے لیکن اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اب تک وہاں امن و امان قائم نہیں کیا جاسکا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے یہ ملک کیسے گزشتہ سولہ سالوں سے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔اس کا اندازہ پاکستان کے عوام اور افواج سے زیادہ کوئی نہیں لگا سکتا۔بلاشبہ اس مہنگی ترین جنگ میں امریکا کی ناکامیوں کی فہرست بھی لمبی ہے۔ سال 2001 سے اب تک امریکا افغانستان میں تقریباً 841 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے جس میں 110 ارب ڈالر افغان حکومت کو مالی امداد کی مد میں دیئے، جس میں افغان فورسزکی تعمیر نو، اقتصادی امداد اور منشیات کنٹرول کرنے کے منصوبے شامل ہیں، مگر نتجہ اب بھی صفر، نہ وہ تربیت جو ایک جنگجو فوج کی ہونی  چاہیئے تھی وہ ہو سکی اور نہ امن و امان اور استحکام کی وہ صورت حال قائم ہو سکی، جس کیلئے اتنا پیسہ برباد کیا۔

صرف یہ ہی نہیں، ہم دیگر اخراجات بھی شامل کرلیں تو امریکا کا افغانستان جنگ پر خرچہ 20 کھرب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔ سال 2001 میں فقط 1300 امریکیوں فوجیوں سے افغانستان میں اترنے والے امریکا نے افغان سرزمین پر غیر ملکی فوجیوں کے انبار لگا دیئے۔ ایساف، نیٹو اور اے این اے کے تحت ہزاروں فوجیوں نے قیام امن کیلئے کردار ادا کرنا چاہا مگر وہ خاطر خواہ صلہ نہ ملا جس کی امید تھی۔ تیرہ سو فوجیوں سے شروع ہونے والے سفر میں امریکی فوجیوں کی افغانستان میں اگست 2010میں یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اب بھی 8 ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں موجود ہیں لیکن افغانستان سے اب تک نہ تو شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوا نہ ہی کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی اقتصادی طور پر کوئی بہتری آئی۔ افغانستان پر تحقیقات کرنے والے نجی ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کی رٹ تمام تر سپورٹ کے باوجود صرف 60 فیصد رقبے پر قائم ہے اور افغانستان کے 34 میں سے 16 صوبے ایسے ہیں جن میں کہیں افغان طالبان کا مکمل تو کہیں جزوی کنٹرول ہے جبکہ بعض صوبے ایسے ہیں جہاں ان کا اچھا خاصا اثر و روسوخ موجود ہے۔

امریکا کی ناکامیوں کی فہرست یہیں نہیں رکتی کیونکہ افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی مستقل اضافہ ہوا ہے، چاہے امریکی سفارت خانے پر حملہ، پارلیمنٹ پر حملہ، چائے خانوں پر حملہ یا پھرڈپلومیٹ ایریا میں کیا گیا حملہ ہو، یہ سلسلہ رکا نہیں۔ افغانستان میں امریکا کی ایک اور بڑی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت منشیات کی اسمگلنگ ہے۔امریکا نے 8اعشاریہ4 ارب ڈالر منشیات کے خاتمے پر لگائے مگر افیون کی کاشت کا رقبہ 2001 کے 8 ہزاریکٹر سے بڑھ کر 2 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیاجبکہ افیون کی پیداوار بھی 185میٹرک ٹن سے بڑھ کر 8 ہزار ٹن سے زائد ہوگئی۔ منشیات کے خاتمے کےلیے 94 کروڑ ڈالر کے جہازافغان حکومت کو دئیے مگر مطلوبہ قابلیت اور ناتجربے کار اسٹاف کے باعث یہ منصوبہ بھی ناکام ہوا۔66 کروڑ ڈالر کی 630آرمرڈ وہیکل اور 49کروڑ کے 20 گارگو جہاز بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہوگئے اور کئی تو اسکریپ میں بیچ بھی دئیے گئے۔

صرف یہ ہی نہیں، 49 کروڑ ڈالر کا معدنیات نکالنے کے منصوبے ایک ارب ڈالر جوڈیشل ریفارم اور 47 کروڑ ڈالر مقامی پولیس کے لیے امریکا نے خرچ کیے مگر یہ منصوبے کرپشن کے باعث ناکام ہوگئے۔اتنی بڑی تعداد میں کسی ملک پر پیسہ لگا دینا اور فوج رکھنا اگر مسئلہ کا حل نہیں تو پھر کیا ہے۔اگر اس مسئلے کو واقعی خلوص نیت سے ہی حل کرنا ہے تو فوجی طاقت کے علاوہ پھر کیا طریقہ باقی رہ جاتا ہے۔ ایک طرف امریکا کو افغانستان میں  صرف القاعدہ، طالبان اور دیگر چھوٹے بڑے جنگجو گروپس ہی نہیں، داعش جیسی خطرناک تنظیم بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جو اس خطے میں اپنے پنجے گاڑھ رہی ہے۔ سال 2015 میں نمودار ہونے والی داعش پانچ صوبوں ہلمند، ذبول، فرح، لوگراور ننگرہارمیں اپنا قد مضبوط کر چکی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغان سرزمین پر یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے مقامی سورش میں افغان طالبان کے غلبے کو براہِ راست چیلنج کیا۔دولتِ اسلامیہ شمالی افغانستان میں بھی اہنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں اس کا ہدف وسطی ایشیا میں چیچن اور چینی اوغر جنگجوؤں سے روابط قائم کرنا ہے۔ ایک انداز کے مطابق افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد کے بارے میں تخمینہ 1000 سے 5000 تک ہیں۔

ارے قبلہ، سوچنے کی بات ہے کہ  اتنی بھاری قیمت ادا کرکے بھی اس کے ہاتھ کیا لگا؟حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی شہری افغان جنگ کو بے کار قرار دیتے ہیں اور صرف 23 فیصد اہلکاروں کو یقین ہے کہ ان کا مشن کامیاب رہا ہے۔امریکی آقاؤں کو یہ بات اچھی طرح باور کرانے کی ضرورت ہے کہ کریزی کٹریا مدر آف آل بم گرا کر افغانستان کو فتح نہیں کیا جاسکتا، یہ وہ جنگجو قوم ہے جو سپر پاور یو ایس ایس آر کو بھی شکست فاش سے دوچار کرچکی ہے، ضرورت ہے تو اس امر کی کہ اس سرزمین کے اصل حق داروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر لایا جائے اور مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ اس جنگ میں جھلستے ہوئے پاکستان پہلے ہی بہت بوجھ اٹھا چکا ہے، چاہئے وہ مہاجرین کی صورت میں ہو، اسلحہ کی ریل پیل، دہشت گردی و انتہا پسندی یا منشیات، یہ افغانستان کی جنگ ہے تو اسے ہی سمجھ کر ختم کرنا ہوگی، پرائی آگ میں ہم کیوں اپنا گھر جلائیں۔

افغانستان کو پاکستان سے سبق سیکھنا چاہیئے۔پاکستان کی مثال دنیا کے سامنے ہے۔ اپنے قلیل وسائل ،لامحدود مسائل کے باوجود کیسے ہماری فوج نے دہشت گردوں کے خلاف  سوات، خیبر ایجنسی، باجوڑ، بونیر، لوئر دیر، مہمند ایجنسی، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیر ستان میں کامیاب آپریشن کیے۔ راجگال اور شوال جیسی مشکل وادیوں میں بھی دہشت گردوں کو اکھاڑ پھینکا۔

اور اب آپریشن ردالفساد کی صورت میں ملک بھر میں دہشت گردوں کا چن چن کر صفایا جارہی ہے،کومبنگ اور اس آپریشن کے نتیجے میں کوئی شک نہیں کہ ایک دن ملک کا چپا چپا اس موذی مرض سے پاک ہوگا، کیوں کہ پاکستان کا ہر مخلص شہری ردالفساد کا سپاہی ہے۔

TALIBAN

AMERICA

POTUS

war against terror

Tabool ads will show in this div