ورلڈالیون کا آزادی کپ

Aug 30, 2017

تحریر: سجاد خان

کفر ٹوٹا ٹوٹا خدا خدا کرکے،پاکستان کرکٹ بورڈ کو آخرکار آٹھ سال بعد ملک میں بین الاقوامی کرکٹ لانے میں کامیابی مل گئی۔ ورلڈ الیون نے پاکستان میں آزادی کپ کے نام سے تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلنے کی تیاری پکڑ لی۔ چودہ رکنی غیرملکی اسکواڈ کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے پی سی بی حکام  پھولے نہیں سما رہے تھے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس مرتبہ پاکستان آنے والے غیرملکی کھلاڑیوں میں ریلوکٹے نہیں بلکہ  نامی گرامی اسٹار کرکٹرز شامل ہیں۔ہاشم آملا ، ڈو پليسي ، عمران طاہر ، تميم اقبال ، مورکل ، ڈيرن سامي، سموئل بدری،جارج بیلی ،  پال کولنگ ووڈ ، گرانٹ ایلیٹ، ٹم پین، تھسارا پریرا اور بين ڈکٹ میں سے کوئی بھی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون کے پاکستان آنے سے قبل آئي سي سي کي سکیورٹی ٹیم ستمبر میں لاہور کا دورہ کرے گي۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی اپنی ضد کے پکے نکلے تینوں میچ صرف لاہور میں ہی کرانے پر ثابت قدم رہے۔ ورلڈ الیون کے دورہ لاہور سے لاہور کو پرامن شہر ثابت کرنے پر مدد ملے گی ۔ بقول نجم سیٹھی کراچی والوں کو ابھی اور انتظار کرنا ہوگا۔ نجم سیٹھی صاحب شاید یہ بھول گئے کہ جب زمبابوے کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تب بھی پی سی بی حکام نے کہا تھا کہ آئندہ غیرملکی ٹیم کے میچز کراچی میں بھی کرائے جائیں گے  لیکن نجم سیٹھی نے ایک مرتبہ پھر کراچی والوں کو صبر کرنے کا لولی پاپ دے دیا۔

 کراچی کے حق کے لئے سابق کرکٹرز بھی میدان میں آگئے۔ سابق کپتان جاويد ميانداد نے کہا ہے کہ ورلڈ اليون کي پاکستان آمد خوش آئند ہے مگر ميچز صرف لاہور ميں نہيں بلکہ کراچي سميت ديگر شہروں ميں بھي ہونے چاہئيں۔ سابق کپتان وقار يونس بھی کراچی والوں کے حق میں بول پڑے۔ ورلڈ الیون کے میچ لاہور کے ساتھ کراچی میں بھي کرانے کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان میں یکجہتی کے سبق پڑھانے والوں کو اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ پی ایس ایل میں ہر صوبے کی ٹیم تھی۔ جب صوبوں کی ٹیموں کے درمیان مقابلے جاری تھے اور ہر صوبے کا تماشائی اپنی ٹیم کی سپورٹ میں لگا تھا یہ اپنی ٹیم سے لگاؤ کا اظہار تھا لیکن پی سی بی جب ایک ہی  شہر میں کرکٹ کے بین الااقوامی میچز کرائے گا تو دیگر صوبوں کے لوگوں کی تو دل آزاری ہوگی ۔ عوام کوورلڈ الیون کے دورہ پاکستان پر اعتراض نہیں ہے بلکہ شائقین کرکٹ کو ورلڈ الیون کے دورہ لاہور پر اعتراض ہے۔

نجم سیٹھی صرف لاہور کو پر امن شہر قرار دلانے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو پر امن قرار دلانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ نجم سیٹھی کے لئے لاہور ہی پاکستان ہے لیکن دیگر شہروں کے لوگ کہہ رہے ہیں۔

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی

najam Sethi

Tabool ads will show in this div