افغان پالیسی کی بنیاد زمینی حالات ہیں،امریکی وزیرخارجہ

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/08/NF-TILLERSON-SAYS-PKG-28-08-RAHEEL.mp4"][/video]

واشنگٹن : امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ نئی حکمت کا مقصد طالبان کوپیغام دینا ہےکہ ہم کہیں نہیں جا رہے۔نئی افغان پالیسی کی بنیاد وقت کے بجائےزمینی حالات ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق اپنے تازہ انٹرویو میں ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ٹرمپ نےفوجیوں کی تعیناتی کا اختیار وزیر دفاع کو دے دیا ہے۔ افغانستان بھیجے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد کا انحصار وہاں کے زمینی حالات پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی حکمت عملی کا تعین افغانستان میں تعینات کمانڈرز کی دی گئی معلومات کے مطابق ہوگا۔ کچھ اختیارات میدان جنگ میں موجود کمانڈروں کو بھی دے دیئے گئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ یہ یقینی بنانا ہےکہ آئندہ افغانستان کا کوئی علاقہ اس قسم کے حملے کے لیےاستعمال نہ ہو۔

[caption id="attachment_880086" align="aligncenter" width="810"] Border Gate At Parachinar: Picture Courtesy : Ambreen.S[/caption]

انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت کوطالبان سمیت تمام قبائلیوں سےمصالحت کاراستہ اپناناچاہیے۔ سماء

USA

TALIBAN

rex tillerson

taliban Shura

haqqani netwrok

Tabool ads will show in this div