جانورکی قربانی یانمودونمائش

تحریر: محمد عدیل طیب

جیسے جیسے قربانی کے دن قریب آتے جارہے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا پر اسکا تذکرہ بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ کوئی جانور کے ساتھ سیلفی لے کر فیس بک پر اپ لوڈ کر رہا ہے تو کوئی ویڈیو بنا کر لطف اندوز ہورہا ہے۔ کوئی بڑا سا بڑا جانور لانے کی کوشش میں ہے تو کوئی مہنگا سا مہنگا جانور خریدنے میں لگا ہوا۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر ایک بحث بھی چل پڑی کہ کیوں نہ ان بیوپاریوں کا بائیکاٹ کیا جائے جو مہنگے جانور بیچتے ہیں۔ فیس بک کی اس پوسٹ پر عوام کی مختلف رائے سامنے آئی جس میں سے بعض نے حمایت کی تو بعض نے مخالفت میں نکتہ پیش کیا۔ بعض نے تو اس معاملے کو حساس قرار دے کر نہ چھیڑنے کا مطالبہ کیا جس پر دلائل کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ کراچی سمیت ملک بھر میں یہ سلسلہ ایک روایت پکڑتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کےلئے بڑا اور مہنگا جانور خرید کر لاتا ہے جس کے بعد اس جانور کو باقاعدہ نمائش کے طور پر کہیں سجایا جاتا ہے اور پھر عوام امنڈ آتی ہے۔

اگر ہم جذباتی ہو کرسوچیں توہمارا دل یہی چاہے گا کہ بیوپاریوں کا بائیکاٹ کردیا جائے کیونکہ جب آپ منڈی کا رخ کرتے ہیں تو جانوروں کی قیمتیں سن کر خون کھول جاتا ہے اور پاس رکھی رقم بھی کم معلوم ہوتی ہےلیکن جیسا کہ نیت کی جا چکی ہوتی ہے لہذا کسی نہ کسی طرح کم یا زیادہ پیسوں میں جانور خرید لیا جاتا ہے۔ بہرحال بائیکاٹ پھر بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہوگاکیونکہ جب تک آپ منتظمین اور نمود و نمائش کرنے والوں کو قابو میں نہیں کرتے تب تک یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بعض بیوپاری منافع خوری کرتے ہیں جن کی روک تھام حکومت کی جانب سے ضروری ہے لیکن ہمیں یہ بات بھی ماننا ہوگی کہ منڈی سجانے والی انتظامیہ بھی بیوپاریوں پر خاصہ ظلم کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا جانور مہنگا فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ نمود و نمائش کرنے والے ان حضرات کا ہے جن کی وجہ سے بیوپاریوں کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نمود و نمائش میں امیر اور مڈل کلاس طبقہ دونوں ہی پیش پیش ہوتا ہے۔ اب اگر آپ بائیکاٹ کرنا چاہتے ہی ہیں تو پھر یہ طے کرلیں کہ کس کا بائیکاٹ کریں گے؟ بیوپاریوں کا، انتظامیہ کا یا پھر نمو د نمائش کرنے والوں کا؟ مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو اس کو حکومتی سطح پر حل کروانے کی کوشش کریں تاکہ بیوپاریوں کو بھی ریلیف دلوایا جائے اور قیمتیں طے کردی جائے۔

یاد رکھیں اللہ رب العزت نے قربانی صاحب استطاعت شخص پر فرض کی ہے اور اسکا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ جانور نمو د نمائش کی غرض سے خریدا جائے یا فروخت کے معاملے میں ناجائز پیسہ وصول کیا جائے، بلکہ خوبصورت اور بنا کسی نقص کے جانور خریدنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اللہ کے پاس جانور کی کھال جاتی ہے اور نہ اسکا گوشت، بلکہ قربانی کرنے والے شخص کی نیت پہنچتی ہے جس کا اس کو ثواب حاصل ہوتا ہے۔ لہذا عید الاضحی پر قربانی کرتے وقت اس بات کو ضرور مد نظر رکھیں کہ ہم قربانی کیوں اور کس مقصد کے تحت کر رہے ہیں۔ عید الاضحی پر قربانی کرتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو یاد رکھیں اور قربانی کا گوشت ان گھروں میں تقسیم کریں جن کے گھر قربانی نہیں ہوتی۔

قرآن کی سورۃ الحج کی آیت نمبر 36 میں فرمایا گیا ہے کہ تم قربانی کے گوشت میں سے خود کھاؤ، سفید پوش  اور مانگنے والوں کو بھی کھلاؤ، ہم نے اس جانور کو تمہارے لیے  مسخر کیا ہے، تا کہ تم شکر گزار بنو۔

EID UL AZHA

Tabool ads will show in this div