بھارت میں تین طلاقوں پرپابندی عائد

Aug 22, 2017

ممبئی: بھارتی عدالت نے تین طلاقیں ایک ساتھ دینے پر پابندی عائد کردی۔ اس فیصلے سے متعلق بھارتی پارلیمنٹ قانون سازی کرےگی۔

غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیاکہ مردکی جانب سے بیوی کو تین طلاق دینےکا اقدام غیرآئینی اور غیراسلامی ہے۔

بھارتی مسلم خاتون شعائرہ بانو نے 2015 میں عدالت سے رجوع کیاتھاکہ اس کے شوہرنےتین طلاقیں دی ہیں جس پر عدالت فیصلہ دے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی پینل نے فیصلہ دیاکہ تین طلاقیں مذہب میں رائج نہیں  اور یہ آئینی وقارکی خلاف ورزی بھی ہیں۔ اس پینل میں مسلمان جج کے علاوہ سکھ، پارسی،عیسائی اور ہندو جج شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہاگیاہے کہ جو بات مذہب میں غلط ہے ،اس کی قانون بھی اجازت نہیں دیتا۔ عدالت کا یہ فیصلہ  قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ بھیجوادیا گیاہے۔ پارلیمنٹ طلاق ثلاثہ سے متعلق قانون سازی کرے گی۔ عدالتی پینل میں تین ججز نے پابندی کے حق میں فیصلہ دیاجبکہ دو نےمخالفت کی تھی۔

شعائرہ بانو نےکہاکہ عدالتی فیصلہ مسلم خواتین کےلیےتاریخی موقع ہے۔ انھوں نےعوام سے اپیل کی کہ اس معاملے کوسیاسی رنگ نہ دیں  اور تین طلاقوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کریں۔

بھارت میں اس فیصلے کو لےکرنئی بحث چھڑگئی ہے۔آل انڈیامسلم لاء بورڈ نے کہاہےکہ تین طلاقوں پرپابندی درست نہیں۔ بورڈ نے مطالبہ کیاہےکہ تین طلاقوں کامعاملہ اگرچہ غلط ہے مگر اس پر قانون سازی عدالت یا حکومت کا کام نہیں۔سماء

MUSLIM

Tabool ads will show in this div