آپریشن خیبر 4 کامیابی سے مکمل، 52 دہشت گرد مارے گئے، 2 جوان شہید

راولپنڈی : پاک فوج نے آپریشن خیبر 4 کامیابی سے مکمل کرلیا، 52 دہشت گرد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے جبکہ 2 فوجی جوانوں نے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں سیکڑوں بارودی سرنگیں ناکارہ بنادی گئیں، 4 دہشت گردوں ے خود کو فورسز کے حوالے کردیا، راجگال اور شوال میں ہر دہشت گرد ہمارے نشانے پر تھا، زمینی اہداف حاصل کرلئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاک فوج نے آپریشن خیبر 4 کامیابی سے مکمل کرلیا، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلئے گئے، آپريشن بہت مشکل تھا، اس دوران دہشت گردوں سے مقابلوں میں 2 فوجی جوان شہيد ہوئے۔

ان کا کہنا ہے کہ آپریشن خیبر 4 کے دوران سینکڑوں بارودی سرنگیں ناکارہ بنادی گئیں، 52 دہشتگرد ہلاک،31 زخمی اور 4 نے ہتھیار ڈال کر خود کو پاک فوج کے حوالے کردیا۔

میجر جنرل آصف غفور کہتے ہیں کہ آپریشن خیبر 4 مکمل اور مربوط منصوبہ بندی سے کیا گیا، راجگال اور شوال میں ہر دہشتگرد ہمارے نشانے پر تھا، راجگال میں 91 نئی پوسٹیں بنائی ہیں ہیں، کئی سرحد پار حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کراچی میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی، 2017ء میں کراچی میں دہشت گردی کا صرف ایک واقعہ پیش آیا، خیبر وادی میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، راولپنڈی میں 2013ء میں مسجد پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو پکڑ لیا گیا۔

دہشت گردوں کی شیعہ سنی فسادات کروانے کی سازش، ویڈیو دیکھیں

آصف غفور نے بتایا کہ اتحادی افواج نے آپریشن میں پاک فوج کو بھرپور معاونت فراہم کی، دوران آپریشن نیٹو فورسز سے بھی مشاورت کی گئی، ردالفساد کے تحت ملک بھر ميں 3300 آپريشن کئے، رينجرز نے پنجاب ميں 1728 آپريشن کئے۔

راولپنڈی میں دہشت گرد کارروائی کی تفصیلات، ویڈیو دیکھیں

ڈائریکٹر جنرل شعبہ تعلقات عامہ پاک فوج بولے کہ پاکستان ہم سب کا ہے، سب کو مل کر اس کے استحکام کیلئے کوشش کرنی چاہئے، سابق صدر پرویز مشرف کی خدمات 4 دہائیوں پر مشتمل ہیں، ان کا کوئی بھی بیان ذاتی حیثیت میں ہوتا ہے، پاک فوج کے حوالے سے کوئی بھی بیان آرمی چیف ہی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشنز کے دوران قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے 95 فیصد متاثرہ افراد واپس اپنے علاقوں کو جاچکے ہیں، پاک فوج نے آئی ڈی پیز کو مکمل سہولتیں فراہم کیں، کسی آئی ڈی پی کو زبردستی نہیں بھیجا گیا، وہ پہلے سے زیادہ اچھی زندگی گزار رہے ہیں، خيبرپختونخوا ميں سرحدی نگرانی کو مؤثر بنايا گيا، فاٹا اصلاحات کے حق میں ہیں، وہاں لوگوں کو حقوق ملنے چاہئیں، افغان سرحد پار سے 250 حملے ناکام بنائے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں امریکی صدر افغانستان سے متعلق پالیسی کا اعلان کل کریں گے، جو بھی پالیسی آئے گی دفتر خاجہ اس کا جواب دے گا، پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، امریکا کو بتادیا کہ دہشت گردوں کیخلاف بلا تفریق کارروائی کی، پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی نیٹ ورک نہیں، حقانی نیٹ ورک سے متعلق باتیں آپریشن شروع ہونے سے قبل کی جاتی تھیں، پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کو را اور این ڈی ایس نے مدد فراہم کی، بھارت آزادی کی تحریک کو دہشت گردی قرار دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں، ڈان لیکس انکوائری کھولنا حکومت کا کام ہے، جو تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانا چاہتے ہیں لے آئیں۔

پریس کانفرنس کے دوران آپریشن میں گرفتار دہشت گردوں کے اعترافی اور کارروائیوں کے طریقہ کار سے متعلق بیانات کی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ سماء

PERVEZ RASHEED

ARMY CHIEF

FORCES

USA

TALIBAN

DG ISPR

RAJGAL

press briefing

general qamar javed bajwa

Major General Asif Ghafoor

operation khyber 4

Tabool ads will show in this div