پاکستان کارتھ فاؤکوسلام

Aug 21, 2017

ڈاکٹررتھ فاؤ کاشمارپاکستان کی ان قابل عزت ہستیوں میں ہوتاہےجنھوں نے اس ملک کی بےلوث خدمت کی۔وہ نہ توپاکستانی تھیں اور نہ ہی مسلمان مگران کاجذبہ قابل تعریف تھا۔انھوں نے پاکستان پراس قدراحسان کئے کہ یہ قرض ہم کبھی بھی نہیں چکاسکیں گے۔ پاکستان سے ان کی محبت اور صحت کے شعبے میں ان کی قربانیاں ہمارے لیےاثاثےکادرجہ رکھتی ہیں۔کئی عشروں سےوہ اپنی شفقت،خدمت،لگن اور خلوص کی وجہ سے کراچی سے خیبرتک جانی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ مکمل طورپر پاکستانی اطوار میں ڈھل چکی تھیں۔ ہیں۔ سرخ سفید رنگ کی ڈاکٹر رتھ قمیض شلوار میں انتہائی جاذب نظر اور شفیق دکھائی دیتی تھیں۔ انھوں نے اردو زبان میں بھی مہارت حاصل کررکھی تھی  جس کی وجہ سے انھیں اپنے مریضوں اور روز مرہ امور پر بے حدآسانی ہوتی تھیں۔

ڈاکٹررتھ کامقام اگرچہ بلندتھامگر انھوں نے ہمیشہ سادہ زندگی گزارنےکوترجیح دی۔ اس سے ملنےوالے پہلی ملاقات میں ہی ان کی شخصیت کے گرویدہ ہوجاتے۔انھوں نےکبھی عیش وعشرت کی زندگی گزارنے سے گریزکیا۔حالیہ بیس برسوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہرکےباوجود وہ اپنےمقصد کےلیے ڈٹی رہیں۔ انھوں نے کبھی مشکلات حالات سے ڈرکربیٹھناسیکھاہی نہیں تھا۔ انھوں نے ہمیشہ سچ کاساتھ دیااورملک کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے وہ کر دکھایا جس کا تصوربھی ممکن نہیں۔ رتھ فاؤ نے 88 برس قبل جرمنی کے شہرلپزگ میں عیسائی گھرانے میں آنکھ کھولی۔1939 سے 1945 تک جاری رہنے والی جنگ عظیم دوم نےان کےشہر کو شدید متاثر کیااوروہ جنگ زدہ علاقے سے اپنے خاندان کے ہمراہ مغربی جرمنی آگئیں۔ رتھ نے یہاں طب کی تعلیم مینز اور ماربرگ کی یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ وہ راہبہ گروپ سے منسلک ہوئیں اوربھارت جاتے ہوئے ویزا مسائل کے باعث  8 مارچ 1960 کوکراچی میں رکیں اور ہمیشہ کےلیے یہاں کی ہوکررہ گئیں۔ ڈاکٹر رتھ کو کراچی میں اس وقت کے علاقے میکلیوڈ روڈ میں جذام کے کچھ ایسا مریض ملے جن کی حالت انتہائی ابتر تھی۔ اس صورتحال نے ڈاکٹر رتھ کے دل میں خدمت کا ایسا جذبہ جگایا کہ انھوں نے کراچی کے پسماندہ علاقے میں میری ایڈیلیڈ لیپرسی مرکز کی بنیاد ڈالی۔

میری ایڈیلیڈ لیپرسی مرکز میں جذام کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔انھوں نےجذام کے مریضوں کو جینے کا حوصلہ دیا۔ ڈاکٹر رتھ کی صورت میں کوڑھ میں مبتلا مریضوں کو مسیحا ملا۔ ڈاکٹر رتھ نے پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی جذام سے بچاؤ اور علاج کے لیے مراکز کھولے۔ انھوں نے تپ دق یعنی ٹی بی جیسے خطرناک مرض کے حوالےسے بھی کام کیا۔

صحت کے شعبےمیں بہترین خدمات کا پاکستان اور عالمی سطح پر بھرپوراعتراف کیاگیا۔حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کی طب کے شعبےمیں خدمات پر انھیں 1988 میں پاکستان کی شہریت دی۔ پاکستان میں 1996 میں جذام پر قابو پالیاگیاتھا اور اس کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیاگیا۔ انھوں نے ڈوئچے زبان میں 4 کتابیں بھی تحریر کیں جن میں ان کےکام کےحوالے سے مختلف تجربات درج ہیں۔ جرمنی کی جانب سے 1968 میں انھیں آرڈر آف دی کراس عطا کیاگیا۔جرمنی کی جانب سے اس عظیم خاتون کو 1985 میں کمانڈرزکراس آف دی آرڈرآف میرٹ ودھ اسٹار سے نوازاگیا۔فلپائن کی حکومت کی جانب سے انھیں 2002 میں رامن میگسے سے ایوارڈ دیا گیا۔

حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ کو 1969 میں ستارہ قائداعظم کااعزاز دیا جبکہ  دس برس بعد1979 میں حکومت پاکستان نے ڈاکٹررتھ کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ہلال امتیاز سے نوازا۔ 1989 میں انھیں ہلال پاکستان کا اعزاز حکومت پاکستان کی جانب سے دیاگیا۔ اپریل 2003 میں ڈاکٹررتھ فاؤ کو جناح سوسائٹی  نے جناح ایوارڈ سے نوازا۔ 2004 میں انھیں آغا خان یونی ورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری ملی۔2004 ہی میں روٹری کلب آف کراچی نے انھیں لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ دیا۔2006 میں انھیں صدر پاکستان نے لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔2010 میں انھیں نشان قائد اعظم بھی ملا۔ اس کے علاوہ ،2015 میں جرمن قونصل خانے میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو جرمن حکومت کی جانب سے سونے کا اسٹیفر میڈل بھی دیا گیاجو اپنی نوعیت کا بہت منفردموقع تھا۔

ان کاآخری سفربھی بےمثال تھا۔ انھیں سرکاری اعزازکےساتھ دفن کیاگیا۔ان کی آخری رسومات میں اعلی ملکی اور عسکری شخصیت نے شرکت کی ۔ان کےچاہنےوالوں کی آنکھیں اشکبار تھیں اور یہ آنسو ہی ڈاکٹررتھ سے ان کی محبت کی عکاس تھے۔ بلاشبہ وہ ایک رول ماڈل تھیں اورپاکستان میں ان جیسےلوگوں کی قدر کی ضرورت ہے۔

HEALTH

Marie Adelaide Leprosy Centre

Dr Ruth Pfau

Tabool ads will show in this div