بھئی "مجھے کیوں نکالا'' مارچ کا آنکھوں دیکھا حال

اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس سے نکلنے والا سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف کا قافلہ چار گھنٹے کا فاصلہ چار روز میں طے کر کے لاہور پہنچ کے اختتام پذیر ہوا، ان چار روز میں بطور صحافی اپنے مشاہدات کو اس تحریر میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہو، اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس سے برامد ہونے والا یہ قافلہ چھ سے آٹھ کلو میٹر کا فاصلہ چھ سے آٹھ گھنٹے میں طے کر کے جب فیض آباد پہنچا تو اس سے پہلے ہی دن بھر اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے والے نا پسندیدہ چینلز کے نمائندوں اور ڈی ایس این جی ٹیمز کی جمہوریت کے وسیع  تر مفاد میں دو سے تین بار حملہ اور  پٹائی ہو چکی تھی، میڈیا نمائندوں اور رپورٹنگ ٹیمز سے روا رکھے جانے والے منظر تمام تو چینلز ( کچھ کو چھوڑ کے ) سب ہی وقفے وقفے سے اپنی سکرینز پر دکھاتے رہے یاد رہے یہ میڈیا وورکرز صبح سات آٹھ بجے سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے فیض آباد کے پل پر موجود تھے اور مارچ میں تاخیر کے سبب تقریباً پورا دن انتظار کے ساتھ ساتھ ان کو گالیوں اور تشدد کا سامنے بھی کرنا پڑا۔

خیر فیض آباد پی ٹریفک صبح سے بند رکھنے کے بعد این اس وقت کھولی گئی جب سابقہ نا اہل وزیر ا عظم کا قافلہ قریب تھا اس سے نا صرف ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہوا بلکہ '' قافلے '' کے حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگیا اور دیکھنے والے کو یوں لگا جیسے پورا راولپنڈی شہر ہی میاں صاحب کے استقبال کے لئے امڈ آیا ہو ، کمیٹی چوک میں کیے جانے والے خطاب میں بھی مقامی لیگی قیادت مطلوبہ تعداد حاصل نا کر سکی اور سابقہ وزیر ا عظم کو دس سے بارہ ہزار کے مجمے سے خطاب کرنا پڑا ، یہاں بھی لوڈ شیڈنگ کو بطور سیاسی حربہ استعمال کیا گیا اور دن بھر زائد لوڈ شیڈنگ کے ساتھ عوام کو چھتوں اور گلیوں میں نکلنے کا معقول بندوبست کیا گیا ، میاں صاحب کمیٹی چوک میں خطاب کرنے کے بعد راول پنڈی کے پنجاب ہاؤس میں آرام کے لئے رکے تو وہاں موجود مقامی قیادت کے بھی کافی لتے لیے۔ اگلی صبح قافلہ لاہور کے لئے روانہ ہوا تو روات، گجر خان سے بجلی کی رفتار سے گزرتے ہوے پہلا اسٹاپ دینہ ٹھہرا ، جہاں نواز لیگ کے مقامی تین گروپوں کی جانب سے الگ الگ استقبال کا بندوبست کیا گیا تھا یہاں بھی ٹریفک جام کی بدولت سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گیں، جہاں میاں صاحب نے پنڈی کے بعد معقول تعداد نظر آنے پر خطاب کیا۔

دینہ میں ایک پولیس اہلکار سے بات کرتے ہوے اس بات کا انکشاف ہوا کہ قافلے میں موجود اے سی بسوں میں در اصل لیگی ورکرز نہیں بلکہ پنجاب پولیس کے جوان موجود ہیں جو سول ڈریس میں اس قافلے کا حصہ ہیں، نا صرف پنجاب پولیس بلکہ سرکاری سکولوں کے استاد اور کچھ اور سرکاری محکموں کے ملازمین بھی مہیا کردہ بسوں میں اس قافلے کا حصہ تھے ، یہاں ایک پولیس والے کا شکوہ آپ تک نا پہنچانا زیادتی ہوگی، اس نے نام نا بتانے کی شرط پر یہ بتایا کہ وہ گزشتہ بہتر گھنٹے سے سو نہیں سکا اور یہ اس کی صورت حال نہیں بلکہ قافلے کی حفاظت پر مامور ہر پولیس والے کی کہانی تھی، نا صرف سرکاری ملازمین کے  اہلکار اس مارچ کا حصہ تھے بلکہ ہم نے کتنے ہی مقامات پر پنجاب پولیس اور سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو اس مارچ کے انتظامات کرتے دیکھا ، جن میں سٹیج بنانا بھی شامل تھا۔ دینہ کے بعد جہلم اگلی منزل ٹھہری جہاں مارچ کے انتظار میں ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی، میاں صاحب نے وہاں بھی اپنے استقبال کے لئے آنے والوں سے خطاب کیا اور بار بار ایک سوال پوچھتے رہے، مجھے کیوں نکالا، کیوں نکالا مجھے، ظاہر ہے اس کا جواب میاں صاحب کے علاوہ کون دے سکتا تھا، خیر جہلم میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جہلم سے صبح گوجرانوالہ کے لئے قافلہ روانہ ہوا تو راستے میں ہی ایک معصوم بچے کی پروٹوکول کی گاڑی تلے کچلے جانے کی خبر ملی اور پھر تھوڑی دیر بعد وزرا اور پھر خود سابق وزیر ا عظم کی زبان سے اس معصوم کو اپنا کارکن قرار دینے اور پھر اس پر قناعت نا کرتے ہوے اسے اپنی جد و جہد کا پہلا شہید قرار دیتے ہوے ان کی زبان بھی نا لڑکھڑائی ، یہاں راقم کے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میاں صاحب سے پوچھا جائے کہ اگر یہ شہادت ہی تھی تو کیوں نا اس شہادت کا سلسلہ شریف خاندان سے شروع کیا جاتا؟۔

گجرات میں میاں صاحب بار بار پھر یہی سوال دہراتے دیکھے گیے کہ مجھے کیوں نکالا؟ یہاں سٹیج پر چند صحافیوں کو دیکھ کر ہم نے بھی سٹیج پر جانے کی کوشش کی تو ہمیں بتایا گیا کہ آپ کی اجازت نہیں ہے، جب پوچھا کہ جو لوگ اوپر موجود ہیں ان کی اجازت کس نے ڈی تو جواب ملا کے وہ سابقہ وزیر ا عظم کے ساتھ آے ہیں، اس لئے انھیں اجازت دی گئی ہے،یہاں اچھے اور برے طالبان کے بعد اچھے اور برے میڈیا کی تفریق دیکھنا بھی ایک دلچسپ لیکن افسوس ناک صورت حال تھی۔ گجرات سے ایک بار پھر سبک رفتاری سے چلتے ہوے قافلہ جب گوجرانوالہ پہنچا تو بلا شک و شبہ گوجرانوالہ میں نواز لیگ کے حامیوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی، یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس میں نا صرف گوجرانوالہ بلکہ ارد گرد کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لیگی ورکرز کی کثیر تعداد بھی موجود تھی جن میں سیالکوٹ، وزیر آباد سے لیے جانے والے استقبالی قافلے سر فہرست تھے۔ گوجرانوالہ سے لاہور تک استقبال کرنے والے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا اور پھر جب قافلہ لاہور کی حدود میں داخل ہوا تو ہر سمت نواز لیگ کی ووٹرز اور ورکرز کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی اور میاں صاحب یہاں بھی ایک ہی سوال پوچھتے دیکھے گئے کہ مجھے کیوں نکالا۔ یہاں بھی ہم نے چاہا کہ کسی طرح سٹیج پر جا کے میاں صاحب کو یہ بتایا جائے کہ انھیں کیوں نکالا گیا لیکن لیگی ورکز کے درمیان یرغمالی صورتحال کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنی یہ سعی بیکار گئی اور پھر چند پولیس اور رینجرز والوں کی مدد سے ہم زندہ سلامت اس صورتحال سے بچ پانے میں کامیاب ہوئے۔ سماء

panama verdict

GTroadrally

Tabool ads will show in this div