مکافات عمل

Model town Incident Lhr Pkg 16-06

چھ جولائی2012 کواحمدپورشرقیہ میں 'غلام عباس'نامی ایک ذہنی معذورشخص کو توہینِ قرآن کے الزام میں گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔اس پر الزام تھا کہ اس نے قرآن پاک کے اوراق جلائے ہیں۔مسجدکےمولوی صاحب نےاعلان کیاکہ توہینِ قرآن کا ملزم جیل میں بند ہے جس پر عوام مشتعل ہوگئے۔ گھر وں سے باہر نکل آئے،گاؤں سے گزرتی ہائی وے بند کردی۔حوالات کے دروازے توڑ کر غلام عباس کو  باہر نکال کر آگ لگا دی اور مجمع کھڑا تماشہ دیکھتا رہا اور اس ذہنی معذورانسان کوپتھر مارتے رہے حتی کہ وہ پوری طرح جل گیا۔

لوگوں نے بہت ہی جلد اس واقعہ کوفراموش کردیا۔ ہرظلم کی طرح اس ظلم کوبھی انصاف نہ مل سکا لیکن ایک ذات ایسی ہے جو سب دیکھ رہی ہے اور انصاف کی ضامن ہے۔خدا کی لا ٹھی بے آواز ہے۔

Pakistani soldiers stand guard beside burnt out vehicles at the scene where an oil tanker caught fire following an accident on a highway near the town of Ahmedpur East, some 670 kms (416 miles) from Islamabad on June 25, 2017. At least 123 people were killed and scores injured in an inferno that erupted after an oil tanker overturned in central Pakistan early on June 25 and crowds rushed to collect fuel, an official said. / AFP PHOTO / SS MIRZA

 اورپھر اسی احمد پور شرقیہ میں25 جون 2017 اسی ہائی وے پر ایک پٹرول سے بھرا ٹرالر الٹ گیاجس میں  ہزاروں لیٹر پٹرول تھا۔عوام کا ایک بڑا مجمع جس میں مرد، عورتیں اور بچے شامل تھے،پٹرول کواکھٹاکرنےمیں لگ گئے۔جہاں پٹرول نے ایک لاپرواہی کے باعث آگ پکڑ لی، ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا اور آگ نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس حادثہ میں تقریبا 199 لوگ جل کر راکھ ہوگئے۔یہ جگہ بالکل اس جگہ کے قریب تھی جہاں 5 سال پہلےذہنی معذورانسان غلام عباس کو  جلایا گیا تھا۔

یہ المناک واقع تھا یا مکافاتِ عمل، شاید کے انسان سمجھ پائے۔۔

MODEL TOWN CASE 1800 LHR PKG 11-03

سترہ جون 2014کو پنجاب پولیس کے اہلکار نہتے تحریکِ منہاج القران کے ورکرزکو اپنی ظالمانہ کاروایئوں کا نشانہ بناتے رہے۔نہ ہی عورتوں کا کوئی لحاظ کیا گیااورنہ ہی بزرگوں کی بزرگی کا پاس اور نہ ہی بچوں کی معصومیت ان کے ظلم و ستم میں رکاوٹ کا باعث بن سکی۔وہاں کامنظرمقبوضہ کشمیر سے قطعی مختلف نہ تھا۔اپنے ہی ملک کے نہتے شہریوں کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔سرِ عام گولیاں چلائی گئیں۔14 پاکستانی جس میں 2 عورتیں بھی تھیں،جاں بحق ہوگئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جس کی ساری ذمہ داری پنجاب پولیس پر ڈال دی گئی اوربعدازاں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو بھی دبا دیا گیا۔3 سال گزرنے کے بعد بھی اس حادثہ کے متاثرین کو انصاف نہیں مل سکااور ظالم حکمران بدستور اپنے اقتداراورغرور و تکبر کے نشے میں مدہوش رہے۔

اور پھر شاید قدرت کا انصاف شروع ہوا اورپاکستان میں پانامہ  لیکس کاکیس سامنے آگیا جودن بدن زور پکڑتا گیااور اس کےآتے ہی پاکستانی حکمرانوں کے مشکل وقت کا آغاز ہوا۔پانامہ کیس کے ساتھ ہی بہت سے ممالک کے سربراہان مستعفی ہوگئےلیکن پاکستان کے حکمران اپنی جگہ قائم و دائم رہے  اور اگر یہ بھی دوسرے ممالک کے حکمرانوں کی طرح مستعفی ہوجاتے تو اقتدار سے تو برطرف ہونا  ہی تھا لیکن اس پشیمانی اور رسوائی سے بچ جاتے جو کہ پناما کیس کی صورت میں بھگتنی پڑی اور جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران مسلسل پشیمانی کا سامنا کرتے ہوئے۔

Panamagate-Case-1

 آخر کار نا اہل قرار پائے جو کہ شاید قدرت کا انتقام تھا یا اپنے کیے کی سزا کہ جس اقتدار کے نشے میں چور نہتے اور مظلوم لوگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایاتو نہ صرف وہ اقتدار گیا بلکہ دنیا کے سامنے رسواء بھی ہوئے۔ بےشک دنیامکافاتِ عمل ہے۔ تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جہاں بھی ظلم ہواتوقدرت نےضرور فیصلہ کیا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جہاں ظلم ہوا وہاں تباہی ہوئی  آج بھی ہمیں وہی ملک یا قومیں ترقی یافتہ دکھائی دیتی ہیں جہاں  انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جاتا ہے۔ باحیثیت مسلمان بھی ہمارامذہب ظلم و ستم سے روکتا ہے اور انصاف کی تلقین کرتا ہےاور انسان اپنے ہر عمل کا جوابدہ ہے جو بوئے گا اسے کاٹنا ہی پڑے گا نیکی کا بدلہ نیکی اور ظلم و ستم کا بدلہ تباہی کیونکہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔

MODEL TOWN

Ahmedpur Sharqiya

Tabool ads will show in this div