ڈاکٹر عمران فاروق قتل، معظم علی عدالت میں پیش، 90 روز کیلئے رینجرز کے حوالے

ویب ایڈیٹر

کراچی: ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم معظم علی کو 90 روز کیلئے رینجرز کی تحویل میں دے دیا گیا، گرفتاری کا انکشاف وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے گزشتہ روز اسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا تھا۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم معظم علی کو سخت حفاظتی انتظامات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، رینجرز کی جانب سے ملزم کو تحویل میں دینے کی درخواست عدالت نے منظور کرلی، رینجرز 90 روز تک معظم علی سے تفتیش کرے گی۔

تفتیشی ٹیم کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں ملزم معظم علی نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملوث ملزمان محسن علی سید اور کاشف کامران کے ویزے کراچی تنظیمی کمیٹی کے اس وقت کے انچارج حماد صدیقی کے کہنے پر لگوائے تھے، ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے سے متعلق واٹر بورڈ افسر خالد شمیم نے رجسٹرڈ موبائل نمبر کے ذریعے اطلاع دی تھی، واقعے کے بعد پارٹی قیادت نے منہ بند رکھنے کا کہا۔

گرفتار ملزم نے یہ بھی بتایا کہ واٹر بورڈ افسر خالد شمیم نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے 12 منٹ بعد لندن میں افتخار حسین سے فون پر بات کی، دو مرتبہ بیرون ملک جانے کی کوشش کی لیکن پارٹی نے روک دیا۔

تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ کورنگی سے عزیزآباد میں رہائش دلوائی گئی اور گرفتاری سے بچانے کیلئے اسے کافی عرصہ عزیز آباد میں ہی رکھا گیا، ابتدائی بیان کی آڈیو، ویڈیو اور تحریری ریکارڈ وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

 

دوسری جانب ایم کیو ایم  ملزم معظم علی سے لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے۔ 

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹرعمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء میں شمالی لندن کے علاقے میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ دفتر سے اپنے گھر واپس جارہے تھے، ان کی تدفین 6 نومبر 2010ء کو یاسین آباد کراچی کے شہداء قبرستان میں کی گئی، لندن کی میٹروپولیٹن پولیس قتل کیس میں اب تک 4 ہزار سے زائد افراد سے تفتیش کرچکی ہے۔ سماء

رینجرز

عمران

حوالے

squads

Tabool ads will show in this div