میٹھے میں ’’اداسی‘‘ چھپی ہے

Aug 08, 2017

Laya-sweet

لندن:زیادہ میٹھا کھانےکے عادی افراد کو ذیابیطس کا عارضہ لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ اداس رہنے کا بھی خطرہ ہے، جی ہاں، تازہ تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ میٹھا کھانے کے عادی ہوتے ہیں وہ اوسط اور کم مقدار میں میٹھا کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ اداس رہتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین کی جانب سے کی گئی ہے۔ماضی میں بھی اس حوالے سے مختلف تحقیقات کی جاچکی ہیں جن میں شکر کے زائد استعمال اور دماغ پر منفی اثرات کے مابین تعلق سامنے آچکا ہے۔

یو سی ایل میں پی ایچ ڈی کی طالبہ انیقہ نیوپیل اور دیگر ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ایسے صحت مند مرد جو لمبے عرصے تک روزانہ 67 گرام یا اس سے زیادہ مقدار میں شکر استعمال کرتے ہیں انہیں روزانہ 40 گرام یا اس سے کم شکر کھانے والے مردوں کے مقابلے میں مزاج سے متعلق مسائل کا خطرہ 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ ان مسائل میں ڈپریشن اور بے چینی سرِفہرست ہیں۔

مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ زیادہ شکر اورمزاجی مسائل میں تعلق ہر طبقے کے مردوں یکساں ہوتا ہے یعنی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زیادہ شکر استعمال کرنے والا کوئی مرد امیر ہے یا غریب، اور زیادہ تعلیم یافتہ ہے یا کم پڑھا لکھا۔ چاہے خالص حالت میں زیادہ شکر کھائی جائے یا پھر میٹھے کھانوں میں شامل کرکے، دونوں صورتوں میں زیادہ شکر کھانے کے موڈ پر منفی اثرات یکساں ہی رہتے ہیں۔

اس دریافت کے باوجود ابھی یہ معلوم ہونا باقی ہے کہ شکر کا زیادہ استعمال کس طرح سے دماغ پراثرانداز ہوتا ہے جبکہ خواتین پر ایسے ہی ایک اور بھرپور تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہے۔ سماء

HEALTH

University college of London