کرپشن کیسے ہوتی ہے؟، مولانا فضل الرحمان نے بتادیا

MOLANA FAZLUREHMAN ON ESTABLISHMENT SOT   18-07

اسلام آباد : مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں منتخب لوگ ایک دوسرے کو چور کہہ رہے ہیں، امریکی زیر اثر پاناما میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی حکومتوں کیخلاف سازشیں ہوتی ہیں، اسٹيبلشمنٹ اور بيورو کريسی کی سپورٹ کے بغير کرپشن ممکن نہيں، ہمارے پاس اگلے 10 سے 15 سال غلطی کی گنجائش نہيں، ہم جمہوريت اور ترقی کے ساتھ کھڑے ہيں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بولے کہ منتخب لوگ ايک دوسرے کو چور کہہ رہے ہيں، کہيں مالی تو کہيں اخلاقی کرپشن کی باتيں ہورہی ہيں، پاناما متحدہ امريکا کے زير اثر ملک ہے، جہاں دنيا بھر کی حکومتوں کیخلاف سازشيں  ہوتی ہيں، پاناما ميں پاکستان کیخلاف بھی سازش ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے اندر بھی کچھ کمزورياں ضرور ہيں، اسٹيبلشمنٹ اور بيورو کريسی کی سپورٹ کے بغير کرپشن ممکن نہيں، بيورو کريسی ماحول بناتی ہے تو سياستدان کرپشن کرتا ہے، کرپشن کرانیوالے بعد ميں احتساب بھی کرتے ہيں۔

جے یو آئی ف رہنماء کا کہنا ہے کہ امريکا کہہ چکا ہے اکيسويں صدی اس کی ہے، دنيا ميں عدم استحکام پيدا کرنے کا آغاز افغانستان سے کيا گيا، امريکا کی نظر پورے ايشياء پر ہے، چين کی ابھرتی معيشت بھی امریکا کی نظر ميں ہے، عراق کو اپنے مقاصد کيلئے تباہ و برباد کيا گيا، پاناما لیکس کا مقصد پاکستان میں خلفشار پیدا کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اگلے 10، 15 سال غلطی کی گنجائش نہيں، ملک ميں صاف ستھری اور سنجيدہ سياست ہونی چاہئے، ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا تو بحران پيدا کئے جارہے ہيں، جمعيت علمائے اسلام ملک کے ساتھ کھڑی ہے، ہم جمہوريت اور ترقی کے ساتھ کھڑے ہيں۔

ان کا کہنا ہے کہ تاثر پيدا کيا جارہا ہے کہ آمريت جمہوريت سے بہتر ہے، آج پرويز مشرف نے نئی جنگ شروع کردی، بڑی جراٴت سے کہا گيا آمريت جمہوريت سے بہتر ہے، قوم کو تقسيم در تقسيم کيا جارہا ہے، قوم کو جمہوريت پر اکٹھے کيوں نہيں ہونے ديتے؟۔ سماء

 

JUIF

IMRAN KHAN

JIT

Panama

PM Disqualification

Tabool ads will show in this div