سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہیں، سپریم کورٹ

1309209-supremecourtFBRSBRstory-1485585140-453-640x480

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کہتے ہیں سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہیں، کیا الیکشن کمیشن کو جانچ پڑتال کرنے کا بھی اختیار نہیں۔

عمران خان نااہلی کیس اور تحریک انصاف کی غیرملکی فنڈنگ کے معاملہ کی سماعت کے دوران لیگی رہنما حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ پر اعتراضات اُٹھائے اور اس سلسے میں ایک متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

درخواست میں کہا گیا کہ موازانہ کیا جائے تو ریکارڈ میں 98 ہزار، 619 ڈالر کا فرق ہے،حنیف عباسی نے 2013 سے 2017 تک فنڈز کا موازانہ بھی جمع کرادیا ، ریکارڈ سے عمران خان کی جعلی سازی باآسانی پکڑی جاسکتی ہے، 113 نام فہرست میں 2 بار درج کیے گئے ہیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ کئی ڈونرز کے نام واضح نہیں کیے گئے جبکہ حنیف عباسی نے عمران خان کا جواب مسترد کرنے کی استدعا بھی کردی ۔

سماعت کے آغاز میں پی ٹی آئی وکیل انور منصور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی تفصیلات قانون کے مطابق نہ ہو تو واپس کی جاتی ہیں، کیا صرف پی ٹی آئی کی غیرملکی فنڈنگ کا مقدمہ ہی سنا جانا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو واضح کرنا ہوتا ہے کہ فنڈنگ قانون کے مطابق ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کسی دوسری جماعت کے خلاف بھی شکایت ہے تو الیکشن کمیشن کارروائی کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو واضح کرنا ہوتا ہے کہ فنڈنگ قانون کے مطابق ہے،سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے معاملے پر قابل احتساب ہیں۔جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کوئی خود تو غیرملکی فنڈنگ کو سامنے نہیں لائے گا، جس پر انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن فنڈنگ کرنے والوں کی تفصیلات طلب کرسکتا ہے۔

انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں پی ٹی آئی کو فراڈ قرار دیا ہے، عدالت ہمارا مقدمہ ہمیں فراڈ کھنے والوں کے پاس کیسے بھیج سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی جماعت کو اکاونٹ درست ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیتا،کسی دوسری جماعت کے خلاف شکایت ہے تو الیکشن کمیشن کارروائی کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ کہتے ہیں الیکشن کمیشن ممنوعہ فنڈز پر فیصلہ نہیں دے سکتا جس پر انور منصور نے کہا کہ جی بالکل، الیکشن کمیشن یہ کیس نہیں سن سکتا،پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 میں پورا قانون تبدیل کر دیا گیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ کا کہنا ہے اکاؤنٹ رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن اکاؤنٹس نہیں دیکھ سکتا جس پر انور منصور نے کہا کہ میرا موقف ہے رپورٹ جمع کروانے کے بعد آڈٹ نہیں کرا سکتے۔

وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مکمل فنڈنگ ظاہر نہیں کی، انور منصور فنڈ ریزنگ صرف امریکا نہیں دوسرے ممالک میں بھی کی جاتی ہے جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے غیر ملکی فنڈنگ نہ لینے کا جھوٹا بیان حلفی دیا، غیر ملکی فنڈنگ ایک حساس مسئلہ ہے، ہر بار ہمارا جمہوری نظام اپنی کمزوریوں پر لپیٹا جاتا ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے ایجنٹ کے خلاف کارروائی کی؟ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بیان حلفی کے مطابق ایجنٹ کو تبدیل کیا جا چکا ہے، اگر ممنوعہ فنڈنگ پاکستان لانے سے روکا گیا تو کیا ایجنٹ زمہ دار نہیں، ممنوعہ فنڈ لینے پر ایجنٹ کا احتساب ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان اور پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کے زمہ دار نہیں ہوں گے۔ انور منصور نے کہا کہ ایجنٹ کی غلطی اب سامنے آئی ہے، ایجنٹ کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی، تاہم اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ کوشش ہو گی جمعرات تک سماعت مکمل ہو جائے، جس کے بعد عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔ سماء

SC

IK disqualification

Tabool ads will show in this div