پاناما کیس کا فیصلہ، وزیراعظم نا اہل قرار

172.16.22.9_07_20170728120833236اسلام  آباد : پاناما کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعطم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ ججز نے فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم کیخلاف نیب ریفرنس دائرکرنے کا حکم دے دیا، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ نیب 6 ہفتے میں ریفرنس دائر کرے، جب کہ ریفرنس لندن فلیٹس کے حوالے سے دائر کیا جائے۔ سماء

سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تمام مواد احتساب عدالت کو بھجوایا جائے گا اور نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ عدالت نے وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیتے ہوئے فوری عہدہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

172.16.22.9_07_20170728120810226 سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کی جانب سے کیس کا فیصلہ سنایا گیا، جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ،جسٹس اعجازافضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔ فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

172.16.22.9_07_20170728122738205 سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تمام مواد احتساب عدالت کو بھجوایا جائے گا اور نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے جان بوجھ کر جھوٹا حلف لیا، نواز شریف نے انتخابی گوشواروں میں ایف زیڈ ای کمپنی کو ظاہر نہیں کیا۔

172.16.22.9_07_20170728120816704 وزیر خزانہ کو ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے مزید جعلی دستاویزات سامنے آنے پر قانون کے مطابق کارروائی کا حکم بھی دے دیا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت ریفرنس پر 6 ماہ میں فیصلہ کرے، نواز شریف اور دیگر ساتھیوں کو بھی شامل تفیش کیا جائے، عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ریفرنس آمدن سے زائد اثاثوں پر دائر کیا جائے، عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا، عدالت کی جانب سے  وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے اثاثے آمدنی سے زائد ہونے کی بناء پر انہیں ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

172.16.22.9_07_2017072812273555 عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کیخلاف نیب ریفرنس دائر کیا جائے، نیب 6 ہفتے میں ریفرنس دائر کرے، فیصلے میں کہا گیا کہ ریفرنس لندن فلیٹس کے حوالے سے دائر کیا جائے، سپریم کورٹ کے معزز ججز نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالتی بینچ کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان جمہوریت کا سفر یقینی بنانے کیلئے اقدامات کریں، ریفرنس کی نگرانی کیلئے سپریم کورٹ الگ سے جج نامزد کرے گی،  جے آئی ٹی ارکان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائیگا، عدالت نے نوازشریف کے خلاف ریفرنس ہل میٹل اور عزیزیہ مل پر بھی دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے مطابق نواز شریف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت صادق اور امین نہیں رہے، تمام وکلاء، اٹارنی جنرل اور شیخ رشید کے مشکور ہیں، اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے جے آئی ٹی ارکان کی ٹرانفسر عدالت سے مشروط کردیا۔

فیصلہ سننے کے لیے تحریک انصاف کے رہنما وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب،عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید احمد، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق، عارف علوی، شیریں مزاری، شفقت محمود، بابر اعوان، فواد چودھری، ایم کیوایم پاکستان کے رہنما میاں عتیق کے علاوہ دیگر سیاسی رہنما بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے تاہم چیئر مین تحریک انصاف عمران خان سپریم کورٹ نہیں آئے۔

پاناما لیکس کے فیصلے کا پس منظر :

واضح رہے کہ 3 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز کا معاملہ صحافیو ں کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے اٹھایا تھا۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے ) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام شامل تھے۔ ڈیٹا کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین نواز کئی آف شورکمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے۔ ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا، اس حوالے سے وزیر اعظم نوازشریف نے دوبار قوم سے خطاب کیا اور ایک بار پارلیمنٹ میں بھی خطاب کیا۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں تحقیقات کیلئے ٹی اوآرز بنانے کیلئے کوشش کرتی رہیں لیکن حکومت کا اصرار تھا کہ احتساب کا عمل سب سے شروع ہونا چاہیے جبکہ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ صرف وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کا پہلے احتساب ہونا چاہیے۔

بعدازاں اس حوالے سے عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید احمد سمیت دیگر افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔ اس پر اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جما لی کی سربراہی میں پہلی مر تبہ یکم نومبر 2016 کو پاناما کیس کی سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیا گیا، کچھ روز سماعت کے بعد سابق چیف جسٹس کی ریٹائر منٹ کی وجہ سے یہ بینچ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد نئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا جس نے کیس کی سماعت کی اور سماعت مکمل کر نے کے بعد 20 اپریل 2017 کو اپنا فیصلہ سنایا۔ پانچ رکنی بینچ کے تین ججوں نے پاناما پیپرز کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ سنایا جبکہ دو ججو ں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو صادق اور امین قرارنہ دیتے ہوئے نا اہل قرار دیا۔

تین رکنی بینچ نے ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی واجد ضیا کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی۔ اس میں نیب، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، آئی ایس آئی، ایم آئی کے نمائندے شامل تھے۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈٖار، چیئرمین نیب، صدر نیشنل بینک، اس وقت کے چیئرمین ایس ای سی پی کو طلب کر کے ان کے بیانات ریکارڈ کیے تھے۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کو 6 بار جبکہ حسن نواز کو 3 بارطلب کیا تھا۔ وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی طلب کیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی نے 63 روز میں تحقیقات مکمل کر کے 10جولائی کو رپورٹ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو پیش کی تھی۔ جے آئی ٹی نے 10 جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائی۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ پر جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فریقین کے اعتراضات 17 جولائی سے سنے اور پانچ روز مسلسل سماعت کے بعد 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سماء

JIT

ch nisar

RED ALERT

SHAIKH RASHEED

MARYAM NAWAZ

Panamagate

PanamaCase

#PanamaVerdict

#NationStandsWithNawaz

redzone

#GoneNawazGone

#JusticeDenied

Tabool ads will show in this div