اٹھاون ٹو بی سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ تک

From 58 2B to Article 6263 Isb Pkg 27-07

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/07/From-58-2B-to-Article-6263-Isb-Pkg-27-07.mp4"][/video]

اسلام آباد:انیس سو تہتر کا آئین بننے کے بعد ماضی میں حکومتیں گرانے کا کام اٹھاون ٹو بی سے لیا گیا یا پھر مارشل لاء سےلیکن نئی صدی میں حکومتیں تو قائم رہیں صرف وزرائے اعظم  گھر بھیجے گئے جس کی وجہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ ہیں۔ پاکستان میں 1973 کا آئین بننے کے بعد کا آئین بننےکےبعد پہلے وزیر اعظم جنرل ضیاء کے مارشل لاء کاشکار بنے۔ ضیاء الحق نے آئین میں 58 دو بی شامل کرکے بطور صدر اسمبلیاں توڑنے کا اختیار حاصل کرنے کے بعد اس کا پہلا شکارمئی 1988 میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو بنایا۔

صدر غلام اسحاق خان نے اٹھاؤن دو بی سے1990 میں بے نظیر حکومت اور پھر 1993وزیر اعظم نوازشریف کو چلتا کیا  جبکہ نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے بے نظیر حکومت پر 58 دو بی کی تلوار چلا دی ۔

اس کے بعد  1997 میں نواز شریف نے وزیر اعظم بن کر آرٹیکل 58 دو بی ہی ختم کردیا مگر اکتوبر 1999میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو ہٹانے کیلئے مارشل لاء لگا دیا ۔

آمریت کے نو سالہ دورکے بعد 2010 میں آرٹیکل 58 دو بی دفن ہوگیا اور آرٹیکل 62 ، 63 کی نئی آئینی تلوار سامنے آئی جس کا پہلا شکار اپریل 2012 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بنے جنہیں توہین عدالت میں سزا یافتہ ہوکر 63 ون جی کے تحت گھر جانا پڑا ۔

اب یہی تلوار وزیر اعظم نواز شریف پرآرٹیکل 62 ون ایف کی صورت لٹک رہی ہے جس کے تحت کے تحت رکن اسمبلی کے لیے صادق اورامین ہونا لازم ہے ۔ سماء

JIT

ch nisar

RED ALERT

MARYAM NAWAZ

Panamagate

PanamaCase

#PanamaVerdict

#NationStandsWithNawaz

redzone

Tabool ads will show in this div