پانامافیصلہ،سپریم کورٹ نے نوازشریف کونااہل قراردیدیا،کابینہ تحلیل

172.16.22.9_07_20170728120402887

اسلام آباد : جسٹس سعید کھوسہ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو 2 ریفرنس دائر کرنے ک حکم دے دیا۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہتاخیر پر معذرت چاہتا ہوں، تمام مواد احتساب عدالت بھیجوایا جائے، پہلے جسٹس اعجاز افضل 3 ججز کا فیصلہ سنائیں گے۔،

 

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما کیس کا فیصلہ سنایا، معزز بینچ میں جسٹس عظمت سعید،جسٹس اعجاز افضل، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار شامل تھے۔ اس موقع پر تمام درخواست گزار اور حکومتی نمائندے بھی کمراہ عدالت میں موجود تھے۔

 

کمرہ عدالت نمبر ایک میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جسٹس سعید کھوسہ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو 2 ریفرنس دائر کرنے ک حکم دے دیا۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہتاخیر پر معذرت چاہتا ہوں، تمام مواد احتساب عدالت بھیجوایا جائے، پہلے جسٹس اعجاز افضل 3 ججز کا فیصلہ سنائیں گے،

قبل ازیں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل3 رکنی عملدرآمد بینچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی عدالت نے 5سماعتوں کے دوران رپورٹ پرفریقین کے اعتراضات سنے اور21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا، اب حتمی فیصلے کیلیے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

384678_47759270

پاناما پیپرز کا معاملہ گزشتہ سال اپریل میں سامنے آیا جس نے ملکی سیاست میں بھونچال برپا کردیا۔ حزب اختلاف نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا لیکن انھوں نے اس کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحقیقاتی کمیشن کے ضوابطِ کار کی تشکیل کے لیے بھی طویل نشستیں ہوئیں لیکن کوئی حل نہ نکل سکا، اس موقع پر تحریک انصاف سڑکوں پر نکل آئی اور 2 نومبر کو اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کی کال دی، اس دوران عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید احمدکی جانب سے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسین نواز ، حسن نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نااہلی کیلئے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت درخواستیں دائر کردی گئیں جنہیں ابتدا میں رجسٹرار آفس نے اعترضات لگاکر واپس کردیا تاہم بعد ازاںسابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اعتراضات ختم کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل فل بنچ کے روبرو سماعت کیلیے مقررکردیا۔

390757_81371058

20اکتوبر2016کو پہلی سماعت کی گئی اور تمام فریقوں کو نوٹس جاری کردیے گئے۔ 28 اکتوبر کوسابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ، جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے کرمزید سماعت یکم نومبر کو مقرر کردی گئی، لارجر بینچ نے 9 سماعتیں کیں لیکن 9 دسمبر 2016 کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے باعث کیس کی سماعت نئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے یکم جنوری 2017 کو حلف لینے تک ملتوی کردی گئی۔ اسی سماعت پر تحریک انصاف عدالتی کمیشن بنانے کے مطالبے سے منحرف ہوگئی۔

Panama-Main-640x358

پانچ مئی کو تشکیل پانے والی جے آئی ٹی نے 8 مئی سے کام کا آغاز کرنے کے بعد 63 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کی، اس دوران 3 عبوری رپورٹس بھی پیش کی گئیں جبکہ حسین نواز کی طرف سے جے آئی ٹی میں ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویر لیک ہونے کیخلاف معاملہ اور نہال ہاشمی کی متنازع تقریر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعتیں بھی عملدرآمد بینچ کے سامنے ہوئیں، یوں 50 سماعتوں کے بعد یہ معاملہ آج منطقی انجام کو پہنچا ہے۔ سماء

JIT

ch nisar

MARYAM NAWAZ

Panamagate

PanamaCase

#PanamaVerdict

#NationStandsWithNawaz

#انصاف_کی_جیت

Tabool ads will show in this div