کالمز / بلاگ

بادشاہ گر

1

جب سے پانامہ کا غلغلہ مچا ہے ملک بھر میں مسلم لیگ ن کے خلاف جذبات کو ابھار ملا ہے۔ اس میں کچھ کرم فرمائی تو7/24 میڈیا کی ہے جہاں لش پش اسٹوڈیوز میں بیٹھے اینکرز بال کی کھال اتارتے ہوئے پورے کیس کا پوسٹ مارٹم کررہےہیں تو کچھ مہربانی عوام کی بھی ہے جو اس اسکینڈل کو بھولنے کیلئے تیار ہی نہیں ۔۔ جڑواں شہروں میں کوئی ایسا چوراہا، کوئی ایسی گلی کوئی ایسی نکڑ نہیں جہاں اس ’’ہاٹ ایشو‘‘ پر لوگ دانش نہ بھگارتے ہو۔ ’’صاحب بس بہت ہوگیا ۔ دھرنوں میں بچ گئے ۔ نیوز لیکس اسکینڈل میں سرخروئی ملی اب ہر بار کامیابی تو نہیں مل سکتی ناں ۔۔ اس بار میاں صاحب اپنی غلطیوں کی وجہ سے بری طرح پھنس گئے ہیں‘‘ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والا ہیئرڈریسر میرے بال بھی بنا رہا تھا اور ساتھ میں اپنے تجزیے سے بھی نوازرہا تھا۔ میں نے کہا ’’ بھئی اس حکومت کو بھی پانچ سال ملنے چاہئے ۔۔ جمہوریت دوسری بار مدت پوری کرے گی تو شاید اس شاخ پر کچھ ہریالی اُگ آئے ، پاکستان کا کچھ بھلا ہو اور ویسے بھی اب تو فقط چند مہینوں کی ہی بات ہے‘‘۔ ہیئرڈریسر رحیم ، جس کی عمر کوئی چالیس برس کےلگ بھگ ہے، میری بات سن کر جھنجھلا اٹھا ’’ صاحب آپ صحافی لوگ حد درجے کے دوغلے ہیں۔ صاف صاف جو نظر آرہا ہے اس سے منہ موڑلیتے ہیں۔ گندگی کو کارپٹ کے نیچے دبانے میں ہی غافیت سمجھتےہیں ۔۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ نے میاں صاحب اینڈ فیملی کو مکمل طور پر قصوروار ٹھہرا دیا ہے۔ ملک کو لوٹا گیا ہے۔ دنیا بھر میں بدنامی ہورہی ہے۔ اس معاملے پر چپ نہیں رہنا چاہئے ۔۔ مگر یہاں تو سچ کے دعویدار چین کی بانسری بجا رہےہیں۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں‘‘؟ ’’ چلیں آپ کی بات مان لیتے ہیں۔ حکمران خاندان نے کرپشن کی ہے۔۔ ان کا احتساب ہونا چاہئے ۔ میاں صاحب استعفا نہیں دیتے اورنتیجتاً اپوزیشن کے کہنے پر لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ حالات خراب ہوجاتےہیں۔ ملک سیاسی بحران میں گھرجاتا ہے ۔۔ تو فائدہ کس کو ملے گا؟ دوسری بات مسلم لیگ ن کے علاوہ پاکستان میں اور بڑی پارٹی کونسی ہے جو اس خلا کو پر کرے ؟ پیپلزپارٹی سکڑ گئی ہے۔ مذہبی جماعتیں اتنی جاندار نہیں ۔ قوم پرستوں کو اپنی بقا کی پڑی ہے۔ اگر آپ تحریک انصاف سے آس لگائے بیٹھے ہیں تو کیا اس پارٹی میں اتنی سکت ہے ۔ اس کی جڑیں عوام میں اتنی مضبوط ہیں کہ دوتہائی اکثریت لے سکے؟ رحیم کے سوال پر میں نے بھی سوال داغ دیا۔

2

اس نے بالوں کو رف بنانے والی قینچی صاف کی اور اپنے حساب سے بالوں کو مٹھی میں لیکر کاٹنے لگا اور ساتھ بولا ’’ لیگی رہنماؤں کی بڑھک بازی سے صاف لگتا ہے کہ حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پانامہ کا ہنگامہ ٹرائل کورٹ پہنچے یا نیب کو بھیجا جائے۔ نقصان ہر حال میں حکمران جماعت کا ہی ہوگا۔ باقی بات متبادل قیادت کی ہے تو خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت بھی آہی جاتی ہے۔‘‘

میرے ماتھے پر حیرانی کے آثار دیکھے تو انہوں نے مزید وضاحت کرڈالی۔’’صاحب کچھ لوگ بادشاہ گر ہوتے ہیں۔۔ یہ جہاں جاتےہیں محفلیں لگنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ گوکہ ان کا تعلق سورج مکھی کی ذات سے ہے۔ آپ انہیں گندے انڈے کہیں یا لوٹے مگر یہ بڑے کام کے ہوتے ہیں۔۔ یہ موسمی پرندے جس شجر پر ٹھکانہ بناتے ہیں وہیں بہار شروع ہوجاتی ہے۔ آئندہ کچھ دنوں تک آپ کو اس صف میں مزید بھی بڑے بڑے سیاسی رہنما کھڑے نظر آئیں گے۔۔ یہ لوگ آتے جائیں گے اور کارواں بنتا جائے گا‘‘۔ رحیم عام لوگوں کے ان ٹولے میں سے ہے جن کی مشاہداتی حس ذرا جلدی پھڑپھڑا جاتی ہے۔ پانامہ کیس کے بعد سیاسی فضا کافی مکدر ہوگئی ہے۔ حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی جانب بڑھ رہےہیں۔ ن لیگ کو مشکل میں ڈال کر تحریک انصاف اپنی کامیابی پرخوشی سے پھولے نہیں سما رہی ۔۔ ق لیگ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی بھی اس گرم کیک سے اپنا پنا حصہ وصولنے کیلئے میدان میں ہیں۔ میں اسی سوچ میں مگن تھا کہ کونے والی کرسی میں براجمان ایک عمر رسیدہ چاچا نے گلا صاف کرتےہوئے کہا کہ ’’ چنگھاڑتے شیر کو پانامہ کے جال میں پھنسا کر تبدیلی کے دعویدار خوشیوں کے شادیانے ضرور بجائیں مگر ذرا اختیاط سے کہ عمران خان کی نااہلی کا خطرہ بھی ابھی نہیں ٹلا۔ کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ عمران خان ابھی تک منی ٹریل دینے میں کامیاب نہیں ہوپائے ۔ ایسا نہ ہو حریف کو پچھاڑے کا یہ پرمسرت موقع اپنے گھر کے ماتم میں بدل جائے۔

ALLEGATIONS

PM Nawaz Sharif

JIT

London Flats

panama case

Tabool ads will show in this div