سندھ پولیس میں کالی بھیڑوں کی موجودگی کاانکشاف

Jul 26, 2017
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/07/POLICE-CASE-TEHLKA-KHI-PKG-26-07-TABISH-1.mp4"][/video]

POLICE TRANSFERS KHI PKG KAZIM 17-07

کراچی: سندھ پولیس کےبارہ ہزاراہلکاروں کا ریکارڈ مشتبہ نکلا۔ اے آئی جی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں کمیٹی کی رپورٹ سپريم کورٹ رجسٹري ميں پیش کردي گئي ۔

سندھ پولیس خطرے میں ہے۔اعلیٰ افسروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر عدالت برہم ہوگئی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نےکہاکہ اعلیٰ افسران کیخلاف کارروائی کیوں نہیں ہورہی؟ جسٹس مشير نے ريمارکس دئيےکہ بارہ ہزار اہلکار کرائم میں ملوث ہیں،اسی لیےامن کایہ حال ہے۔

سندھ پولیس کے بارہ ہزاراہلکاروں کاریکارڈ مشتبہ نکلاہے۔اے آئی جی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی کردی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے فوری طورپرچیف سیکریٹری کو طلب کرلیاہے۔ جسٹس سجادعلی شاہ نے کہاکہ کیا ہمیں معلوم نہیں سندھ پولیس میں کیا کھینچا تانی چل رہی ہے۔

رپورٹ کے تحت ایک لاکھ نوہزاراہلکاروں کےریکارڈ کا جائزہ لیاگیا۔شواہد ملنے پرساڑھے تین سو اہلکاروں کيخلاف سزا کی سفارش کی گئی۔جرائم میں ملوث سترہ اہلکاربرطرف کردئیے  گئے جبکہ ایک سو بائیس کوجبری ریٹائرمنٹ دے دی گئی ہے۔ سماء

Tabool ads will show in this div