احتساب عام کب ہوگا؟

culture-of-corruption-in-pakistan-politicsا

پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے اور اہم ترین پاناما کیس میں سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ فیصلہ کچھ بھی آئے اس کے اثرات آنے والے برسوں اور دہائیوں تک مرتب ہونگے۔ مگر کیا ملک کے ادارے، سیاستدان، اشرافیہ اور عوام اس سے کوئی سبق سیکھ پائیں گے؟ کیا اب ملک کرپشن سے پاک ہو جائے گا؟ کیا آج کے بعد عوام کو عدلیہ سے فوری انصاف ملنا شروع ہو جائے گا؟ کیا آنے والے چند برسوں میں صرف صادق اورامین ہی پارلیمنٹ پہنچ پائیں گے؟ کیا ایسے تمام لوگ جن کے نام پاناما پیپرز میں تھے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے؟

"احتساب خاص "کا واویلہ تو ہم نے بہت  دیکھ سن لیا اب "احتساب عام "کا انتظارہے۔ جس میں عام سرکاری ملازم کے ساتھ ساتھ ہر مقدس گائے بھی شکنجے میں آئے،پھراحتساب ہوکلرک سےلےکربڑےصاحب تک کا،پٹواری سےلےکرتحصیلدارکا،لائن مین سےایکس ای این کا، جرنلسٹ سےلےکرجرنیلوں کا،وکیل سے لےکرججوں کا،سپاہی سےلےکرآئی جی کااورٹھیکیدار سے لے کر پراپرٹی ٹائکون تک کا ممکن ہوسکے گا۔

Corruption-Arrow-Sign1

چند روز قبل ایک پٹواری سے بات ہوئی جو پاناما اسکینڈل پرتبصرہ فرما رہا تھا کہ سیاست دان اتنی کرپشن کرتے ہیں،انہیں کوئی پوچھنےوالا نہیں۔جناب کی باتیں سن کر بڑی حیرانگی ہوئی اور سوچا کہ ایک پٹواری کی حیثیت سے اس کےپاس ہونڈا اکورڈ کار،پوش علاقےمیں گھراور پھر دوسرے ملکوں کے دورے،کیایہ سب حلال کی کمائی سے ممکن ہے ۔ پاکستان میں کون نہیں جانتا کہ ایک چھوٹے سے گریڈ کے پٹواری کے پاس نئے نئے ماڈل کی گاڑیاں کہاں سے آتی ہیں اور اس کا رہن سہن اوراثاثے  اس کی آمدن کے مطابق ہیں یا نہیں ۔ مگر پوچھ رہا ہے کہ کرپشن کیسے ختم ہوگی۔ اسی طرح جب کوئی تاجر یا فیکٹری کا مالک پاکستان میں تبدیلی کی بات کرتا ہے تو تعجب ہوتا ہے ۔ کروڑوں کی آمدن اور سالانہ ٹیکس چند ہزار، لیکن ہرسال مذہبی فرائض باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔

پچھلی چند دہائیوں سے احتساب کا شور اکثر سنا جاتا ہے۔ جب بھی جمہوری حکومت گرائی گئی کرپشن کو بنیاد بنایا گیااورجمہوری ادوارمیں اپوزیشن نےپیٹ پھاڑ کر کرپشن کا پیسہ واپس لانے کا دعویٰ کیا مگرایسا کبھی ہوا نہیں۔ نہ تو فوجی حکومت نے سیاستدانوں کا پورا احتساب کیا اور نہ ہی جمہوری حکومتوں نے ایک دوسرے کا احتساب کیا۔

کرپشن روکنے والے اداروں کی بات کریں توہر ادارے کا فوکس ہمیشہ میڈیا میں بڑی بڑی خبریں چھپوانے تک رہاہے۔ اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے جیسے ادارے توخود کرپشن کے گڑھ بن چکے ہیں جبکہ احتساب بیورونےبڑے سیاستدانوں اور کاروباری ٹائکون پر الزامات تو عائد کیے لیکن کسی کے خلاف کرپشن ثابت نہیں کرسکا۔ شاید وائٹ کالرکرائم کی ٹریننگ کا فقدان ہے یا پھر معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر بدعنوانی روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں کیونکہ کبھی ایسی مہم نہیں چلائی جا سکی جس کے ذریعے کرپشن پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ شائد ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں کیونکہ ٹھیکے دارتوان کے اپنے عوامی نمائندوں کے لیے ہی کام کرتے ہیں اورپھراسی طرح محکموں کے افسران اور ملازمین کو کوئی ڈرخوف نہیں کہ کبھی کرپشن اور ہیراپھیری کرنےپروہ گرفت میں آئیں گے۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہے۔

6-window-Collage

پاکستان میں لوگوں کی حالت یہ ہے کہ غلط کام یہ سوچ کرکرتے ہیں کہ حساب تو تبھی ہوگاجب پکڑے جائیں گے اورجب پکڑے جائیں گےتب دیکھا جائے گا۔ افسوس کے ساتھ یہی وطیرہ ہے جس کی وجہ سےآج ہم ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں دنیا کو ہم پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔

سیاسی جماعتوں کے لئے پاناما کیس ایک اچھا سبق ہے۔اگروہ سیکھناچاہیں کہ کسی حدتک اب یہ اتنا آسان نہیں ہوگاکہ سیاست میں آکرجھوٹ بولیں اور پھرمکر جائیں، حکومت میں آکر اپنے اثاثوں کو دن دگنی رات چگنی بڑھوتی دیں اور پھر یہ تصور کریں کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔

وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مستقل بنیادوں پراحتساب اور کرپشن روکنے کا ایسا نظام مرتب کریں جوبغیر کسی سیاسی دباؤ کےآزادانہ طور پر کام کریں۔اس سے نہ صرف جمہوری قوتیں مضبوط ہوں گی بلکہ سیاستدانوں پرعوام کااعتمادبھی بڑھے گا۔

مستقبل قریب میں ملک میں کرپشن روکنے کا ایسا کوئی مربوط نظام بنتا دکھائی نہیں دیتا کہ یہ کہا جاسکے کہ اگلے چندبرسوں میں کرپشن کرنے والےہرسیاستدان، تاجر، جج، جرنلسٹ، جرنیل، بیوروکریٹ، ٹھیکیداراورزمیندارکواپنا حساب دینا پڑےگا۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب معاشرے کا وہ طبقات جو کرپشن کے ناسور کی زد  میں ہیں،اٹھ کھڑےہوں اورتہیہ کرلیں کہ وہ اپنےاردگرد کسی قسم کی بدعنوانی نہیں ہونے دیں گے۔ شاید ایسا طبقہ فی الحال منظم ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگانے والے اپنے حصار میں کرپشن زدہ عناصر کا میلہ لگا رہے ہیں۔ اگران کا مقصد صرف حکومت گرانا ہے اوردوسری طرف اپنے گرد مزید کرپٹ لوگوں کو اکاموڈیٹ کرنا ہے تو ہنوز دلی دوراست ۔

ACCOUNTABILITY

embezzlement

Tabool ads will show in this div