چین بھارت ممکنہ جنگی خطرات

india-china-border_650x400_71499049913

تحریر: محمد ارشد قریشی

جب سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ ابتداء  کا اعلان کیا ہے اس وقت سے  دنیا پر اپنی مضبوط گرفت کے خواہاں ممالک کے لئیے مسائل پیدا ہوگئےہیں۔ سی پیک کا اعلان ہوا تو اس خطے میں موجودان مداخلت کار ممالک کو معاشی خطرات لاحق  ہوگئے۔جن ممالک کو شدید خطرات لاحق ہوئے ان میں سر فہرست امریکہ اوربھارت  ہیں  ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ چین کا سی پیک  مغرب  اور ان کے حواری ممالک کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا۔دراصل امریکہ، بھارت،جاپان اورجنوبی کوریاتیل کوخلیجی ممالک سےلینےکےبعدخلیج فارس سے ہوتے ہوئے بحیرہ عرب ،بحیرہ ہند  اور  فلپائن کے سمندری علاقے سے ہوتے ہوئے چین کے جنوبی سمندرسے گذر کر  جاپان اور پھرامریکہ کی جانب سفر کرتے ہیں۔اسی طرح چین بھی تجارت کے لیئے یہی سمندری راستہ استمال کرتا ہے۔ سی پیک کے بعد چین نےپاکستان کے تعاون سےگوادر پورٹ پر تیزی سے کام کیا جو دنیا کی ایک قدر گہری اور قدر گرم پانی کی پورٹ ہے۔اس پورٹ کےفعال ہونےکےبعدچین کی تجارت اورتیل کاراستہ آسان،تیزاورمحفوظ ترین بن گیا۔چین نےاسی پورٹ پر اکتفا  نہ کیا  بلکہ سری لنکا کی ہنمبنٹوٹا بندرگاہ کو خریدکر اپنے  بحری بیڑے وہاں پہنچائے۔اس کےبعد بنگلہ دیش کی ڈھاکہ بندر گاہ کو بھی ہاتھ میں کر لیاجب کہ جنوبی چین کےسمندر پرجزائرنان شا، شی شا،پہلے ہی چین کے کنٹرول میں ہیں۔اس طرح وہ سمندری راستہ جس سےبھارت ، جاپان  اورامریکہ کو تیل کی سپلائی  ہو رہی تھی وہ چین کے بحری بیڑوں اور بحریہ کی نگرانی میں آچکےہیں جب کہ دوسری طرف چین کو  چالیس دن کاسفر سی پیک سے اب دس دن میں پڑ رہا ہے اور پاکستان سے زیادہ قابل اعتماد دوست چین کے پاس کوئی نہیں ۔

india china

 گذشتہ دنوں  سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کافی گرما گرم خبریں دیکھی ہونگی کہ چین بھارت افواج کے درمیان جھڑپیں اورسرحدوں کی خلاف ورزی ہوئی۔ یہ خبرمکمل طور پرحقائق پرمبنی نہ بھی تھی لیکن ایک بات طے تھی کہ کچھ نہ کچھ ہواضرور ہے جس کی وجہ سےخبر بنی۔آخربھارت کوچین سےپاکستان دوستی کےعلاوہ کون سے ایسے  مسائل ہیں جس سے حالات اس قدر کشیدہ ہوگئےکہ چین نےجدیداسلحے سےلیس فوجی مشقیں تبت میں شروع کردیں۔اگراس زمرمیں دیکھا جائےتو چین نے بھارت کے دوست ممالک  بنگلہ دیش اورافغانستان کو اربوں ڈالرز کی امداد دی اور کنسٹرکشن کے لئیے اپنی کمپنیز اتاردیں جوآنے والے کسی بھی مشکل وقت میں بھارت کی بجائے چین کے ساتھ کھڑے ہوں گئے۔اس کےعلاوہ چین نے نیپال اور بھارت کے درمیان ایک تنازعہ سے فائدہ  اٹھاتے ہوئےنیپال کو نہ صرف تجارتی راستہ دیا بلکہ تیل کی سپلائی بھی شروع کر دی اور اسکا انفرا سٹرکچر بہتر بنانے کے لئیے اور فوج کی ٹریننگ کے لئیے اپنے فوجی اسکول بھی کھول دئیے۔

ان تمام حالات اور چین کی تیزی  سے ترقی اوردیگر ممالک سےدن بدن بڑھتے تعلقات پرامریکہ نےاپنی خفگی  کچھ اس طرح نکانےکی کوشش کی کہ فلپائن کےساتھ ساؤتھ چائنا سمندری تنازعہ کےمسئلےپرفلپائن کوعالمی عدالت میں جانےکامشورہ دیاجب کہ چین نےناصرف فلپائن کا دعوی مسترد کر دیابلکہ عالمی عدالت کی جانب سےیکطرفہ اورغیرمنصفانہ فیصلےکوردی کےکاغذ کہہ کر ٹھکرا دیا۔ بھارت اور چین میں موجودہ  کشیدگی کی بنیادی وجہ چین  کی بھوٹان سے بھارتی عملداری اور کنٹرول ختم کرانے کے لیئےاس علاقےمیں سڑک کی تعمیر ہے جس کے بعد بھارت اور چین کا سکم میں تنازعہ شروع ہوا۔بھارت کوخطےمیں چین کےرہنماء کردار سے خطرہ ہے کیونکہ مستقبل قریب میں چین  کےسارک تنظیم کا رکن بننے کی امید ہے۔اگر چین سارک میں شامل ہو جاتا ہے تو اس خطے میں بھارت کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی  کیوں کہ چین  نے  نیپال ، پاکستان،سری لنکااورافغانستان کواپنےسےاتنا قریب کرلیاہےکہ ان ممالک کی  حمایت سےاسےبا آسانی  رکنیت مل سکتی ہےاوراسی کاخطرہ بھارت کوہےجس بناپر بھارت چین کوسکم پر مصروف رکھ کر باقی معاملات سےتوجہ ہٹاناچاہتاہے، مگر چین نے گزشتہ روز دھمکی دی کے اگر بھارت باز نہ آیا تو جنگ صرف سکم میں ہی نہیں ہو گی ، بلکہ چین تین اطراف سے حملہ آور ہوگا یعنی  تبت ،  لداخ  اور  سکم  جب کہ چوتھی طرف ہوگا چین کا بہترین ایٹمی طاقت کا حامل دوست پاکستان جب کہ چین کو فضائی راستے دینے والے ممالک میں پاکستان کے علاوہ  نیپال  بھی ہوگا۔

CHINA

Border Tension

Tabool ads will show in this div