ڈاکٹر عمران فاروق قتل، معظم علی کے جے آئی ٹیم میں سنسنی خیز انکشافات

اسٹاف رپورٹ

کراچی : ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار معظم علی خان کی جے آئی ٹی میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، لانڈھی کے رہائشی عابد نورا کو ایم کیو ایم رہنماء  کے قتل کا علم تھا، تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ قتل کرنے کی منصوبہ بندی 2 مرتبہ کی گئی۔

ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس میں گرفتار معظم علی خان کی جے آئی ٹی میں نئے سنسنی خیز اور اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، لانڈھی کے رہائشی عابد نورا کو بھی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا علم تھا، لندن میں اکبر نامی ٹیکسی ڈرائیور انٹرنیشل سیکریٹریٹ لے جاتا تھا۔

معظم علی نے ٹیم کو بتایا کہ لندن میں محمد انور کے گھر پر قیام کیا، ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی 2007ء اور 2010ء میں 2 مرتبہ کی گئی، پارٹی میں اندورنی اختلافات کی بناء پر انہیں قتل کیا گیا۔

ملزم نے جے ٹی آئی میں انکشاف کیا ہے کہ واردات کیلئے کوڈ ماموں استعمال ہوا، قتل کے بعد پیغام ملا کہ ماموں کا کام ہوگیا۔

معظم علی کہتا ہے کہ الطاف حسین سے 2001ء اور 2007ء میں ملاقات کی تو چائنا کٹنگ کی بے ضابطگیوں اور ملوث افراد سے آگاہ کیا، ایم کیو ایم قائد کے ولیمے میں بھی شرکت کی، الطاف حسین کی جانب سے 100 روپے کے نوٹ پر آٹو گراف بھی مل چکا ہے۔

معظم علی خان کے 5 بینک اکاؤنٹس ہیں، اس کی کمپنی کی برانچز امریکا اور سری لنکا میں بھی ہیں، ہر گاڑی اور ٹیلیفون نمبرز میں نائن زیرو کے اعداد بھی شامل ہیں۔ سماء

خیز

عمران

squads

انکشافات

سنسنی

Tabool ads will show in this div