اب سی پیک نشانہ ہے

CPEC-Project

سی پیک وہ منصوبہ ہے جس کو جتنی بھی گہرائی میں، جس بھی طریقے سے اور جیسے مرضی پڑھ لیں ، آپ کو یہ منصوبہ پاکستان کے مفاد میں نظر آئے گا۔ بلوچستان کے علاقے گوادر سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ چین کے مغربی علاقوں تک وسیع ہے۔ گوادر جو کہ گہرے پانیوں کی دنیا کی بہترین بندرگا ہ ہے،اس کا انتظام پہلے کسی اور ملک کو دیا گیا تھا۔ موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کا یہ کریڈٹ ہے کہ اُنہوں نے وقت وحالات و درست طور پر سمجھتے ہوئے اس پورٹ کا انتظام اُ س ملک کو دیا ہے جس کی اِس کو سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔ چین نے ابتداء میں 46ارب ڈالر سے اس منصوبے کا آغاز کیا اور ابھی اس منصوبے کا مجوزہ حجم 60ارب ڈالر سے تجاوز ہو چکا ہے۔اس منصوبے میں چین اور پاکستان تو براہ راست اسٹیک ہولڈرز ہیں جبکہ دنیا کے کئی مالک اس منصوبے میں شمولیت کے متمنی ہیں۔ روس اور ترکی اس منصوبے میں شمولیت کیلئے بات چیت کے مراحل میں ہیں۔ اسی طرح سے فوج نے بھی ایک مکمل برئیگیڈ اس مقصد کیلئے مختص کر دی ہے ۔ تاہم ہمارے ہمسائے کو یہ منصوبہ کسی بھی صورت منظور نہیں ہے ۔ درحقیقت دنیا میں ’اکنامک وار‘ چل رہی ہے۔ چین کی سب سے زیادہ توجہ ’میڈ ان چائنہ ‘ پر مرکوز ہے ۔ امریکیوں کی روسیوں سے مخاصمت کی سب سے بڑی وجہ معیشت ہے ۔ اسرائیل اگر امریکہ کوسپورٹ کرتا ہے تو اُس کی وجہ بھی معیشت ہے ۔ اسی طرح سے امریکہ بھی اسرائیل کو دفاع و معیشت میں سپورٹ کرتا ہے ۔ معیشت ہی تو ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ اسرائیلیوں نے سب سے پہلے فلسطینیوں کی معیشت کو تباہ کیا تھا، انجام سب کے سامنے ہے کہ وہ شہادتیں دے رہے ہیں لیکن کمزور معاشی معاملات کی وجہ سے مستحکم نہیں ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سے کشمیریوں کی معیشت جہاں مستحکم ہونے لگتی ہے،وہیں وادی میں آگ و خون کا کھیل شدت سے شروع ہو جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں کمزور معیشت ہی درحقیقت غلامی ہے ۔ معیشت اچھی اور مضبو ط ہوگی تو ہی آپ ٹھیکیدار اور تھانے دار کی پوزیشن میں آئیں گے ۔ قیام پاکستان کے وقت حیدر آباد دکن کی معیشت کمزور تھی ،بھارت نے زور زبردستی سے اُس کو حاصل کر لیا۔ بہاولپور کی معیشت مضبوط تھی تو نواب نے آزادانہ فیصلہ کر کے پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ اب بھارت کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت  پاکستان کے مغربی ہمسائیے اُس کے بلاک میں ہی ہیں،پھراس کوامریکہ کی آشیربادبھی حاصل ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں پاکستان کی 350ملین کی فوجی امداد روک لی ہے۔ اُن کا کہناہے کہ پاکستان نے ابھی تک حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کئے ہیں اور یہ کہ پاکستان میں اب بھی دہشت گرد فنڈز جمع کر رہے ہیں۔ اس چارج شیٹ میں سچ اور جھوٹ کا تجزیہ تو نہایت ہی آسان ہے لیکن یہ چارج شیٹ کیوں آئی؟

why-is-india-trying-to-disrupt-cpec-when-new-delhi-has-a-lot-to-gain-from-the-economic-corridor-1472570540-1679

امریکی ایوان نمائندگان نے طویل بحث و مباحثے کے بعد ایک ایسا بل بھاری اکثریت سے منظور کیا ہے ،جس کے مندرجات کی رو سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ جائیں گے۔یہ وہ بل ہے جس کو امریکہ میں بھارتی اور اسرائیلی لابی نے متعارف کروایا۔ یہ بل اب سینٹ میں جائے گا، امید یہی ہے کہ وہاں سے منظور ہو کر ٹرمپ کی میز پر جائے گا۔ کیا ٹرمپ کی مسلم دشمنی کسی سے مخفی ہے؟ کیا ٹرمپ کی اربوں ڈالر کی بھارت میں سرمایہ کاری نیوز رپورٹس کا حصہ نہیں ہے؟کیا بھارت پر امریکہ کی مہربانیاں سب کے سامنے نہیں ہیں؟ بھارت کو نوازا جا رہا ہے اور پاکستان کا گھیراؤ کیا جارہا ہے تو تصویر کیا بن رہی ہے؟ کیا پچھلے سال تک امریکی محکمہ خارجہ  ہی پاکستان کی وار آن ٹیرر پر تعریف نہیں کرتے رہے ہیں؟ کیا وہ خود تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ پاکستان نے موثر کاروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے عفریت پر قابوپا لیا ہے؟ آپ کڑیاں ملائیں تو صورتحال واضح ہو جائے گی۔ بھارت سی پیک کے خلاف گلوبل لابنگ میں مصروف ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلسل کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کر رہا ہے، امریکہ بھارت کو نہیں پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں داعش کی نئی صف بندی ہو رہی ہے اور بھارت ایران سے تعلقات از سر نو تعمیر کر رہا ہے ۔اب امریکہ نے پاکستان کی 350ملین ڈالر کی رقم بھی روک لی ہے۔ ایک طرف اگر ہم دیکھتے ہیں تو اس حجم کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں فل اسکیل وار کا امکان نہیں ہے جبکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں اور بھارت چین کے ساتھ بھی ایک سرحد پر پھنسا ہوا ہے لیکن اُس کے باوجود بھی  ساری صورتحال کا تجزیہ کیجئے تو واضح ہو جاتا ہے کہ درحقیقت اب سی پیک نشانہ ہے اور اُس کیلئے دشمن صف بندیاں کر رہا ہے۔ کیا ہم ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں؟

CHINA

AMERICA

War on Terror

Tabool ads will show in this div