پاکستان میں مچھلیوں کی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی

PC On Fish Killing Isb Pkg 20-07

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/07/PC-On-Fish-Killing-Isb-Pkg-20-07.mp4"][/video]

کراچی: پاکستان میں مچھلیوں کی نسل کُشی کا رجحان خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے۔ محکمہ فشریز کے مطابق پیداوار میں اسی فیصد کمی آگئی ہے۔

پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے۔ سردار عاشق گوپانگ نے بتایا کہ مچھلی کے شکار کیلئے دریاؤں میں خطرناک کیمیکل بھی پھینکا جاتا ہے۔

محکمہ فشریز کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ سمندر میں یومیہ تقریباً پچاس  کروڑ گیلن آلودہ پانی شامل ہو رہا ہے جبکہ مچھلیاں پکڑنے کے لیے عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہورہی ہے۔

ڈی جی انوائرمنٹ عرفان طارق کا کہنا ہے کہ اڑتالیس سے پچاس کروڑ گیلن یومیہ آلودہ پانی سمندر میں جارہا ہے جبکہ پلاسٹک بیگز نے بھی مچھلیوں کی خوراک ختم کردی ہے۔ سمند کے اندر جنگلات یعنی مینگروز میں بھی کمی آئی ہے اور جال بھی خلاف قانون بچھایا جاتا ہے۔

بارہ ناٹیکل مائلز کے لائسنس والے بھی گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ پی اے سی نے سمندری حیات کی نسل میں خطرناک حد تک کمی پر گہری تشویش کا اظہار کر دیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ فشریز کی پاکستانی برآمدات صرف بتیس کروڑ ڈالر ہیں جبکہ عالمی قوانین پر عمل کرکے انہیں باآسانی دو ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے۔ سما

Contaminated water

Tabool ads will show in this div