پاناما کیس؛چیئرمین ایس ای سی پی ظفرحجازی کی عبوری ضمانت منظور

Jul 17, 2017

Zafar Hijazi Bail Isb Pkg 17-07

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/07/Zafar-Hijazi-Bail-Isb-Pkg-17-07.mp4"][/video]

اسلام آباد:ریکارڈ ٹیمپرنگ کیس میں چیئرمین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ظفرحجازی کی 5 دن کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔ ایس ای سی پی چیئرمین ظفر حجازی سیشن عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ ڈیوٹی جج طاہر محمود نے ظفر حجازی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 17 جولائی تک ظفر حجازی کی راہداری ضمانت منظور کررکھی ہے جو آج ختم ہو گئی۔ ظفرحجازی کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر فوجداری مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دس جولائی کو پاناما عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ثبوتوں میں ردبدل اور گڑبڑ کرنے پر چیئرمین ایس ای سی پی کے خلاف اسی روز مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کی تفتیش کےدوران سنسنی خیزموڑآیا تھا جب  سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کے ریکارڈ میں جعل سازی کے معاملے پرڈائریکٹر ایس ای سی پی ماہین فاطمہ نے چیئرمین ظفرحجازی کا بھانڈا پهوڑا۔  ماہین فاطمہ نے ایف آئی اے کو اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ ریکارڈ ردوبدل ظفر حجازی کے کہنے پر کیا تها۔ چیئرمین  ظفرحجازی چاہتے تهے میں کہوں کہ جے آئی ٹی ارکان نے مجهے رلادیا۔ مجھ پر ایس سی پی کے منیجر ہیومن ریسورس کی جانب سے بھی دباؤ ڈالا گیا۔ چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی نے یکم جون کو بیان میں چند لائنیں شامل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا اور کہا کہ جے آئی ٹی کے رویے کے خلاف شکایت کرتے ہوئے کہوں کہ تحقیقاتی ٹیم نے مجھے رلا دیا۔سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو  معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ماہین فامہ چوہدری شوگر ملز کی ڈیلنگ آفیسر بھی ہیں۔ اس سے قبل بھی سی ایس ڈی کے سابق سربراہ علی عظیم  نے بھی 2013 میں ظفر حجازی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے کہا ہے ریکارڈ تبدیل کیا جائے۔

سیکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن پرشریف خاندان کے کاروباری ریکارڈ میں ردوبدل کے الزام سے متعلق ادارے کے چیئرمین ظفر حجازی نے بھی وضاحتی بیان بھی جاری کیا تھا جس کے مطابق کسی غلط کام کا ذمہ دارادارے کے سربراہ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ضروری نہیں کہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کو سب کچھ معلوم ہو، ایسے تو ہرماتحت افسر اپنی ناکامی کی ذمہ داری سربراہ پر ڈال سکتا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ اور سیکشن دوسو تریسٹھ دو الگ الگ معاملات ہیں ،انہیں آپس میں ملایا نہ جائے۔ سماء

JIT

SHARIF FAMILY

panama case

Zafar hijazi

Maheen Fatima

Tabool ads will show in this div