گھریلوملازمین بھی انسان ہیں

Maid Torture Follow up 2100 Lhr Pkg 13-07

تحریر: محمد عدیل طیب

پچھلے کچھ دنوں سے میڈیا پر گھریلو ملازمین پر تشدد کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور ان خبروں نے سب سے زیادہ زور اس وقت سے پکڑا ہوا ہے جب اسلام آباد میں طیبہ کا کیس سامنے آیا جس میں ایک وکیل کے گھر میں کام کرنے والی کم عمر ملازمہ طیبہ پر تشدد کیا گیا۔ حالیہ واقعہ لاہور میں پیش آیا جہاں ایک سترہ سالہ ملازم پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ جان کی بازی ہار گیا جبکہ اس کے ساتھ کام کرنے والی اس کی چھوٹی بہن عطیہ کو بھی گھر والوں کی جانب سے بہت مارا پیٹا گیا لیکن خوش قسمتی کہ وہ بچ گئی۔ اس بار گھریلو ملازمین پر تشدد کا واقعہ ن لیگی ایم پی اے شاہجہاں کی بیٹی کے گھر میں پیش آیا۔ ملازمہ عطیہ نے پولیس کو بیان دیا کہ گھر کی مالکن فوزیہ ہم پر ڈنڈوں سے تشدد کرتی تھی اور تشدد سے ہی بھائی کی موت واقعہ ہوئی۔

یہاں ان واقعات کا ذکر اس لیے کیا گیا کیونکہ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات کا تذکرہ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب یہ واقعہ کسی وکیل، پولیس افسر، ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر یا کسی اعلی عہدیدار کے گھر میں پیش آتا ہے کیونکہ یہ تمام حضرات اس واقعہ کے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں اس طرح کے واقعات ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوتے جارہے ہیں اور آئے دن کسی نہ کسی گھر میں ملازمین مالکوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ میڈیا پر عام گھروں میں ہونے والے تشدد کے واقعات منظر عام پر نہیں آتے جب تک کوئی جان سے مار نہ دیا جائے۔

Girl Torture LHR Aslive 11-07

یہاں ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اللہ کے نزدیک ہر انسان برابر ہے اور رب نے اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیا ہے، چاہے وہ کوئی غریب شخص ہو یا میرے اور آپ کے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین۔ جیسے آپ کے اور میرے سینے میں دل دھڑکتا ہے، اسی طرح ان گھریلو ملازمین کے دل بھی دھڑکتے ہیں۔ یہ بھی کئی آرزو لے کر گھروں سے کام کے لیے نکلتے ہیں جیسے ہم نکلتے ہیں۔ ہم جہاں خود ملازمت کرتے ہیں اگر وہاں ہم سے کوئی ناروا سلوک بھی اختیار کرلیں تو ہم آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، لیکن جب اس سے بھی بدتر سلوک ہم خود اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ کرتے ہیں تو سب بھول جاتے ہیں۔ شاید ہم ان کو اپنی طرح انسان نہیں سمجھتے یا ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔

اگر آپ اپنے گھریلو ملازمین کو انسان تصور کرتے ہیں تو ان کو اپنے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھائیں۔ ان کو احساس محرومی کا شکار نہ ہونے دیں اور نہ ان کی حق تلفی کریں۔ اگردوران کام کوئی غلطی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو ان کو پیار سے سمجھائیں نہ کہ انکی عزت نفس کو مجروح کریں لیکن اگر آپ خود کو انسان سمجھتے ہونگے تو ملازمین کے ساتھ کبھی بھی مار پیٹ کا راستہ اختیار نہیں کرینگے۔

child labor

DOMESTIC VIOLENCE

MPA daughter

Tabool ads will show in this div