خالق کائنات سےمحبوب بندےکی ملاقات،شب معراج آج منائی جارہی ہے

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


لاہور / کراچی / اسلام آباد/ کوئٹہ/ پشاور : رجب کی ستائیسویں شب کو آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج پر روانہ ہوئے، اسی نسبت سے اس رات کو شبِ معراج کہا جاتا ہے۔ اس بابرکت رات کی اہمیت پر تمام مکاتب فکر کےعلمائے کرام متفق ہیں۔

شب معراج  یعنی وہ شب جب خالق کائنات سے محبوب بندے کی ملاقات ہوئی، ارشاد باری تعالی ہے کہ "پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی، جس کے ماحول کو بابرکت بنایا تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔

احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجرت سے قبل ستائیس رجب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ُام ہانی کے گھر قیام پذیر تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام رات کے وقت براق لے کر آئے،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر مسجد اقصی پہنچے، اس سفر کو اسراء کہا گیا۔

وہاں نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام  کی امامت کی اور سفر سماوی پر روانہ ہوئے جو معراج کہلایا۔ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں ، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا۔ سدرت المنتہی سے آگے آپ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہوئے اور اُمت کو پانچ  نمازوں کا تحفہ دیا۔

واقعہ معراج اللہ عزوجل  کی ان عظیم الشان نشانیوں میں سے ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی  صداقت اور اللہ تعالی کے نزدیک آپ کے عظیم مقام ومرتبہ پردلالت کرتی ہے۔ سماء

آج

beats

mudslides