سینٹرل جیل میں قیدیوں کے فرار کا معاملہ؛دہشتگردوں کے خطوط منظرعام پر

Jul 12, 2017

jail letter khi pkg 12-07

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/07/jail-letter-khi-pkg-12-07.mp4"][/video]

کراچي: سينٹرل جيل ميں قيديوں کے فرار کے معاملے ميں مزيد تہلکہ خيز انکشافات سامنے آگئے۔ سکيورٹي اداروں کے دشمن، سيکيورٹي اداروں کي طرح کوڈ ورڈز ميں خطوط لکھتے تھے۔ ائیرپورٹ حملہ کیس میں قید ندیم برگر کا خط بھی سماء کو مل گیا۔

تفصیلات کے مطابق ملزم خط کے ذريعے ساتھيوں کو مشورے، ہدايات اور دھمکياں ديتا تھا۔ بھتہ، زر ضمانت، پراپرٹی فروخت سميت ہر کام کي ہدايت جيل سے ملتي تھي۔ اپنے ساتھی اقبال کو لکھے خط میں کیا ہے ہر بات کے لیے کوڈ کا استعمال۔ مچھلی، گوشت، نمکو، چپس، جیسے استعاروں سے بھرے خط میں کیا کیا لکھا ہوتا تھا ملاحظہ کیجیئے۔

بکرا عید پر جو جانور لو اس میں ساتھی دہشتگردوں کا حصہ رکھنا۔ ساجد کو کہہ کر فریج میں رکھوا دینا۔ تاکہ تمام دوستوں کو یہ گوشت پہنچ جائے۔

کراچی سینٹرل جیل میں سرچ آپریشن، موبائل ،نقدی برآمد

میں نے جرمن کو مچھلی کا بولا تھا اس سے پوچھ لینا لا سکے تو ساری مچھلی لے آئے۔ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر ساجد کے فریج میں رکھ دے۔ اور تم آتے ہوئے لے آنا۔

عبدالمجید کو بولنا کہ خط اپنے پاس رکھے کیوں کہ اس میں پراپرٹی کے نمبر ہیں۔ جرمن کو بولنا 221 بک جائے تو بھائی نے پیغام دیا کہ دس لاکھ سائیٹ میں رکھ دے۔ پھر مجھ سے ملے میں جرمن کو بتاوں گا کہ کیا کرنا ہے۔

سینٹرل جیل کراچی میں کیا کیا ہوتا رہا

خط میں دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

"جنید کو کہنا کہ تیری اتنی ہمت ہوگئی کہ تو ندیم بھائی کو بول رہا ہے کہ ہمارا احسان نہیں ہے۔ تو نے جیسے میرے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ تو ایسے بول رہا ہے تیری اتنی اوقات بھی نہیں۔ آج سی ٹی سی کے لیے پیسے نہیں تیرے پاس ضمانت اور چرس پینے کے لیے تیرے پاس پیسے ہیں۔"

دہشت گردوں کے ان خطوط کے معاملے کی تحقیقات بھی سی ٹی ڈی نے شروع کردی ہے۔ سما

CENTRAL JAIL

code words

Tabool ads will show in this div