ہربیٹی قوم کی بیٹی ہے

Jul 11, 2017

pia

سال دو ہزار تین میں زندگی کا پہلا فضائی سفر کیا اور یہ سفر پی آئی اے کے ذریعے تھا۔ اس کے بعد سے اب تک ہر سال پاکستان کا سفر ہوتا ہے لیکن بس ایک مرتبہ ہی دوبارہ پی آئی اے میں سفر کیا تب چند دن پہلے ہی ایئر بلو کاحادثہ ہوا تھا اور میں بہت اپ سیٹ تھی۔جہاز اڑنے کے کچھ دیر بعد میں نے ایئر ہوسٹس کو اپنی فیلنگز بتائیں اور بتایا کہ آج پہلی مرتبہ مجھے جہاز کے سفر سے ڈر بھی لگ رہا ہے،اس کے بعدہم نے تین چار منٹ تک باتیں کیں پھر وہ مجھے پریشان نہ ہونے کا کہہ کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے چلی گئی دس پندرہ منٹ بعد دوبارہ آکر پوچھا کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟میں نے شکریہ کے ساتھ بتایا کہ مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔تب اس نے کہا کہ اگرآپ چاہیں تو ہمارے ساتھ کیبن میں آ جائیں کچھ دیر کے لیے آپ کا دل بہل جائے گا۔ میں نے دوبارہ شکریہ ادا کرتے ہوئے معذرت کر لی اور وہ اسی مسکراہٹ کے ساتھ واپس چلی گئی۔

کھانا سرو کرنے کے دوران میں نے کھانا لینے سے منع کر دیا کیونکہ واقعی مجھے ڈر لگ رہا تھا اور میں بس جلد از جلد پاکستان پہنچنے کی دعا کر رہی تھی۔ شاید اس ائر ہوسٹس نے اپنی کولیگز کو میرے بارے میں بتایا تھا اسی لیے جب سب کو کھانا سرو ہو چکا تو ایک دوسری ائر ہوسٹس نے تھوڑی دیر کے لیے کیبن میں آنے کی درخواست کی، اس مرتبہ میں گئی تو دوائر ہوسٹسز کھانا کھا رہی تھیں۔ کھانے کی ٹرے میری طرف بھی بڑھایا،اس دن کھانا کچھ ٹھیک نہیں تھا جس پر وہ شرمندہ تھیں لیکن میرے بہت منع کرنے کے باوجود مجھے وہیں اپنے ساتھ بٹھا کر کھانابھی کھلایا اور یہی نہیں بلکہ کچھ دیر بعدمیں اپنی سیٹ پر آئی تو بھرے جہاز میں میرے لیے کشن اور کمبل ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی لیکن ناکام رہیں اور میں نے باقی کئی مسافروں کی طرح ان قیمتی اشیاء کے بغیر سفر گزارا۔ آج اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجھے انکی محبت تو یادہے کاش کہ نام بھی یاد رہ پاتے۔

PIA-planes-4-1024x768

میری ان سے رشتہ داری نہیں تھی لیکن مسافروں کے آرام کا خیال رکھنا ان کی ڈیوٹی میں شامل تھا جو انہوں نے احسن طریقے سے نبھائی،جہاز میں ادارے کی طرف سے جو سہولیات مہیا نہیں کی گئیں ان کی وہ جواب دار نہیں بلکل اسی طرح جیسے وہ اپنی شکل و صورت کے بارے میں جواب دہ نہیں !۔ اگر کسی پر بھی تنقید کرنا ہو تو اس کے کام پر تنقید کیجیے نہ کہ اسکی شکل و صورت پر، لیکن حیرت اور افسوس اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے سمجھدار اور عقل رکھنے والے لوگ شکل وصورت پراعتراض کرتے ہوئے ہاتھ میں آئینہ نہیں رکھتے۔ کوئی بتائے کہ کیا آپکے فضائی سفر کا مقصد ائر ہوسٹسز کو دیکھ کرتسکین حاصل کرنا ہے یا ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا؟

پاکستان کے معروف کامیڈین جس طرح پاکستانی ائر ہوسٹسزکا مذاق اڑاتے ہیں کم و بیش اسی طرز پر آج کل سوشل میڈیا پر ہماری ایک ائر ہوسٹس کی تصویر مختلف کیپشنز کیساتھ تقریباًہرجگہ نظر آرہی ہے، اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں میں کئی ایسے بھی ہیں جو باتوں کے ذریعے اپنے علاوہ ساری دنیا سدھارناچاہتے ہیں ،کیا وہ اپنی والدہ محترمہ یا بہن کی تصویر پرسرِ عام اسی طرح لوگوں کو تبصرہ کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔۔ تو کیا دوسروں کی مائیں اور بہنیں عزت و تکریم کے لائق نہیں ہیں؟ ۔

PIA-Misses-Revenue-Targets

یہی کچھ پہلے زبیدہ آپا کے ساتھ کیا گیا ،یہاں تک کہ ان کا نام استعمال کر کے اخلاق باختہ لطائف تک بنائے گئے۔ ان کے خاندان والے یہ سب نہ کرنے کی درخواستیں ہی کرتے رہ گئے لیکن سوشل میڈیا کے بدمست ہاتھی کے آگے ایک نہ چلی، کیا یہی ہماری اقدار ہیں؟ ہمارے معاشرے میں تو بچپن ہی سے بڑوں کا ادب کرنا سکھایا جاتا ہے پھر یہ سب کرنے والے لوگ کون ہیں ؟ کن گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ؟ اپنی بری حرکتوں سے اپنے والدین کی تربیت اور خاندان پر انگلیاں اٹھانے کا موقعہ کیوں دیتے ہیں؟۔

اور اگرکبھی کوئی ان کے لیڈران کی بیویوں یا بیٹیوں کے بارے میں بات کرے تو ایک دوسرے کے بخیے ادھیڑ ڈالتے ہیں۔تب یاد دلایا جاتا ہے کہ کیا تمہاری ماں بہن نہیں جو تم ان کے لئے غلط زبان استعمال کررہے ہو؟تو میں یہ سوچنے پرمجبور ہوں کہ کیا قوم کی بیٹیاں صرف وہی ہیں جن کی کوئی اونچی سیاسی وابستگی ہے؟۔کیا گنی چنی چند خواتین کے علاوہ ہم کسی خاتون کی عزت و حرمت کیلیئے آواز بلند نہیں کر سکتے ؟ہم یہ کیوں بھولے ہوئے ہیں کہ فضاؤں میں ذمہ داریاں نبھاتی ائر ہوسٹس سے لے کر زمین پر کام کرتی خاتون تک ۔۔۔ ہر عورت عزت اور احترام کی اتنی ہی مستحق ہے جتنی ہماری اپنی ماں اور بہن۔

درخواست ہے کہ آئندہ ٖکسی فضول اور گھٹیا کیپشن کے ساتھ کسی بخاتون کی تصویر لگا کر عوام کو کمنٹس کی دعوت دینے سے پہلے ساتھ ہی اپنے گھر کی بھی کسی خاتون کی تصویر لگائیے تاکہ تحقیر کی جو گرد آپ دوسروں پر اڑا رہے ہیں خود آپ کی آنکھوں میں بھی پڑے اور اگر ایسا کرنے کی جرات نہ ہو تو دوسرے گھروں کی عزت پر بھی سوشل میڈیا کے چوراہے پر آوازیں نہ کسیں کیونکہہر بیٹی قوم کی بیٹی ہے!!!!۔

air hostess

Tabool ads will show in this div