سانحہ صفورا،گرفتارملزمان کےانکشافات،سبین محمودقتل کابھی اعتراف

ویب ایڈیٹر:


کراچی   :   سانحہ صفورا میں ملوث گرفتار کئے گئے دہشت گرد نے شہر میں کئی ڈاکٹرز، پولیس افسران و اہلکار، امریکی ڈاکٹر ڈیبرالوبو  اور سبین محمود سمیت کئی اہم شخصیات کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق سانحہ صفورا کی تحقیقات کے دوران گرفتار ہونے والے دہشت گرد طاہر نے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گرد طاہر حسین اور اس کے بھائی شاہد کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ دہشت گرد کے مطابق سانحہ صفورا گوٹھ کی منصوبہ بندی نواب شاہ میں کی گئی، واردات سے قبل کئی روز تک بس کی ریکی کی گئی تھی، دہشت گردوں کے مطابق اس حملے کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا، دہشت گرد طاہر نے بوہری مسجد دھماکے، سولہ اپریل کو امریکی ڈاکٹر ڈیبرالوبو پر حملے کا اعتراف کیا۔

دہشت گرد نے یہ بھی بتایا کہ ڈیفنس کے علاقے میں این جی او کی ڈائریکٹر سبین محمود کو بھی اس نے قتل کیا ہے، دہشت گرد کے مطابق اس نے سبین محمود کے فنکشنز میں بھی شرکت کی، دہشت گرد طاہر 2007 حیدرآباد میں بھی قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، دہشت گرد نارتھ ناظم آُباد میں ہونے والی بینک ڈکیتی میں بھی ملوث ہے، گرفتار دہشت گرد طاہر کا بھائی شاہد دو مئی کو کراچی میں پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔،

تحقیقات کے دوران گرفتار دہشت گردوں نے رینجرز کے بریگیڈیر باسط پر حملے، دس پولیس اہل کاروں کو قتل کرنے، اسکولوں پر گرینیڈ اور بوہری کمیونٹی پر حملوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ سماء

paper

stopped

Tabool ads will show in this div