سبین محمودقتل، تمام قاتل اعلیٰ یونیورسٹیوں کے گریجویٹس ہیں،وزیراعلی

ویب ایڈیٹر :

کراچی  :  وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ سبین محمودکےقتل کاماسٹرمائنڈسعدعزیزہے، سبین محمود  کا منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ سعد عزیز  آئی بی اے کا پڑھا لکھا تعلیم یافتہ، جب کہ ایک قاتل سرسیدیونیورسٹی کاالیکٹرونکس انجنیئر  اور   تیسرا  حافظ ناصرجامعہ کراچی کاایم اےاسلامیات ہے،اس گروپ میں 15 سے 20 افراد شامل ہیں، ان دہشت گردوں کو شہر کے  مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بدھ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے چشم کشا انکشافات کیے، یعنی دہشت گرد اور ان کی تربیت اب مدرسوں سے نکل کر ملک کی اعلیٰ ترین جامعات میں جڑیں پیوست کر چکی ہیں،یعنی  دہشت گردی جو قاری، ملا، مولانا، حافظ اور اسلام  کا ٹریڈ مارک بن گئی تھی، اب اس میں اعلیٰ ترین جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں نے بھی اپنا حصہ ڈال  دیا ہے۔

اعلیٰ حکام، صوبائی وزیر اطلاعات اور دیگر افسران کے ہمراہ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ صفوراکےملزمان  گرفتار کیے گئے ہیں، جن سے اہم ثبوت ملے  ، ان دہشت گردوں کو شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا، گروپ نےبوہری برادری اور پولیس پرحملےبھی کیے۔

دہشت گردوں کی تفصیلات سے متعلق وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ  سبین محمود کے قاتل بھی  گرفتا کرلئے گئے ہیں، سبین محمود قتل کا ماسٹر مائنڈ سعد عزیز ہے، جو آئی بی اے کراچی سے گریجویٹ ہے،  ایک قاتل سرسید انجینیرنگ یونی ورسٹی کا انجینیر تھا ،  جب کہ ایک اورقاتل حافظ ناصرجامعہ کراچی کاایم اےاسلامیات ہے،گروپ میں 15 سے 20 افراد شامل ہیں،  ملزمان نے قتل کا بھی اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے کہا ایک ملزم کے متعدد نام ہیں جو دہشت گردی کے کئی واقعات میں ملوث رہا ہے، ملزم کو بم بنانے اور اسے استعمال کرنے کی مہارت حاصل ہے، ملزمان کا ایک بڑا گروپ ہے جس کے نام انہوں نے بتائے ۔


قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملزمان نے رینجرز کے بریگیڈیئر پر خودکش حملے کا بھی اعتراف کیا، ملزمان اسکول پر دھماکوں میں بھی ملوث ہیں جب کہ بوہری برادری، پولیس اور امریکی ڈاکٹر ڈیبرا لوبو پر حملے میں بھی یہی گروپ ملوث تھا۔ ملزمان کے  قبضے سے دھماکا خیز مواد سمیت جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحہ صفورا کے ملزمان میں حافظ  ناصر نامی ملزم 2013 میں دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے ، طاہر منہاس نامی دہشت گرد ان کا ماسٹر مائنڈ ہے، ملزمان سے مزید تحقیقات کے لیے ان کی جے آئی ٹی کی جائے گی جس کےبعد ایک ہفتے میں مزید تفصیلات بھی بتائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سندھ میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث ہے اس کی بنیاد پر ہی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی بات کہی تھی تاہم واقعہ  میں بھارتی ایجنسی کے ملوث ہونے کے بارے میں نہیں کہا تھا۔


قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس نے تین دن میں سانحہ صفورا کے ملزمان کو گرفتار کیا جس پر اسے شاباشی دیتے ہیں جب کہ ملزمان کو گرفتار کرنے والی ٹیم کو 5 کروڑ روپے انعام بھی دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ قائم علی ٰ شاہ کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس نے جامعات کی تعلیم و تربیت سے متعلق  نہ صرف کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں، بلکہ ان جامعات کے ماحول، رجحانات پر بھی شکو ک و شہبات بڑھا دیئے ہیں۔  سماء

کے

Hayatabad

vaccines

اعلیٰ

Markhor

Tabool ads will show in this div