کالمز / بلاگ

بلوچستان کے خزانے

Jul 08, 2017

727986-induswatertreatyx-1486108503-314-640x480

تحریر : ببرک کارمل جمالی

بلوچستان صرف دو لفظوں پر مشتمل ہے یعنی" بلوچ " ستان "جس کے لفظی معنی بلوچوں کے رہنے کی جگہ ہے ۔ بلوچ بلوچستان کے دھرتی کے قدیم ترین باسیوں میں ہیں تاریخ دان ہمیشہ بلوچ لفظ کے الگ الگ معنی لکھتے تھے کچھ نےتو بلوچوں کو ترکمانی کہا کچھ نے عربی کہا اور کچھ نے ترکی کا مجموعہ کہا ہے۔ بلوچستان سر زمین کب آباد ہوا تھااور کب بلوچ لوگ یہاں آباد ہوئے ہے ۔ یہ کوئی نہیں جانتا ہے اور نہ ہی کتابیں بتا سکتی ہیں۔ بلوچستان کی سرزمین جس طرح دنیا بھر میں سی پیک کی وجہ سے مشہور ہے اسی طرح بلوچستان کی سر زمین قیمتی خزانوں سے بھی بھری پڑھی ہے جسے نکال کر پورے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

FB_IMG_1487997419067

دنیا میں بلوچستان کو سونے کی چڑیا بھی سمجھا جاتا ہے مگر اصل سونا تو بلوچستان کی معدنیات ہے ان معدنیات میں سونا چاندی لوہا کرومائیٹ تانبا گیس چونا عمارتی پتھر ایگرو کرومائیٹ جپسم سنگ مرمر اور کئی اعلی قسم کی دھاتیں موجود ہیں جو ہر سال ملکی سرکاری خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کرتی ہیں بلوچستان میں معدنیات کے بے شمار ذخائر موجود ہے خاران میں راسکوہ کے مقام سے کرو مائیٹ تانبا گندھک گرینائٹ اور چپسم کے بڑے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں اسی طرح خاران میں کانڑی کے مقام پہ تیل کے بھی آثار دیکھے گئے ہیں جبکہ سیندک کے مقام پہ بڑے پیمانےپر تانبا لوہا چاندی دریافت ہوئے ہیں ۔ بلوچستان کے مغرب میں واقع مکران خاران اور چاغی کے پہاڑی سلسلے تمام تر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ بلوچستان میں پائی جانے والی معدنیات دو قسم کی ہیں ایک دھاتی اور دوسری غیر دھاتی۔ ملک بھرمیں معدنیات کے نو زون ہیں جہاں پہ معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں ان میں پانچ زون بلوچستان میں پائے جاتےہیں۔

FB_IMG_1487997571327

پاکستان دنیا کا خوش قسمت ترین ملک ہے جوکوئلےکی دولت سے مالا مال ہے بلوچستان میں کوئلے کی دریافت انگریز حکومت کے دور میں ہوئی تھی 1889 میں سب سے پہلے کوئلہ سوینج میں دریافت ہوا تھا اس وقت کوئلے کے کل ذخائر کی لمبائی بیس میل تھی جبکہ 2010 میں ڈیگاری کے مقام سے کوئلہ کی دریافت ہوئی تھی ڈیگاری کان کی کل لمبائی اور گہرائی ایک ہزار میٹر تک ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی کان تصور کی جاتی ہے۔ ڈیگاری کے مقام پندرہ ملین ٹن کے کوئلےکے ذخائر موجود ہیں ڈیگاری کی سالانہ پیداور چار لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ سوینج کی پیداوار تیرہ ملین ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں حتاکہ ریکوڑک کےمقام پر دنیا میں سب سے بڑےسونے کے ذخائر موجود ہیں۔ ریکوڈیک کے مقام پہ دنیا کے سب سے بڑے تانبے کے ذخائر موجود ہیں بلوچستان سے نکلنے والا سنگ مرمر بلوچستان میں کہیں بھی استعمال نہیں ہوتا ہے ۔اس سنگ مر مر کے بلوچستان میں بہت سے ذخائر ہیں۔

FB_IMG_1487997702293

بلوچستان کے سنگ مرمر کی قسمت کراچی کے کارخانوں میں ہی ہیں جبکہ کرومائیٹ کے بڑے ذخائر سی پیک کے روڑ کے ساتھ ہی خضدار میں ہے اس کے علاوہ مسلم باغ میں بھی اس کے ذخائر موجود ہے کرومائیٹ اسٹیل مل میں کام کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے اس پتھر کو اس طرح تیارکیاجاتاہے کہ اس کی مشین میں آٹا کی طرح بنا کر پائوڈر مختلف چیزوں میں استعمال ہوتا ہےجبکہ اس کرومائیٹ کوسب سے زیادہ چین روانہ کی جاتی ہے جبکہ جپسم کی پیداوار میں بھی بلوچستان کافی آگے ہے جپسم بہت سی چیزوں میں استعمال ہوتی ہےجن میں سیمنٹ کاغذ کیڑےمار ادویات اور دوسری بہت سی چیزوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جپسم کی پیداوار سبی ضلع میں پائی جاتی ہے جبکہ لورالائی ضلع میں بھی کافی مقدار میں جپسم پایا جاتا ہے بلوچستان میں دنیا کی سب سے قیمتی معدنیات پائی جاتی ہے اور بلوچستان دنیا کا خوش قسمت صوبہ ہے جس میں تمام اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہے جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

BALUCHISTAN

minerals

Tabool ads will show in this div