تحریک آزادی کشمیر کی جان برہانی وانی کی پہلی برسی

A picture of Hizbul Mujahideen commander Burhan Muzaffar Wani is held up during a rally condemning the violence in Kashmir, in Islamabad, Pakistan July 24, 2016. REUTERS/Caren Firouz

مقبوضہ کشمیر : يہ غازي يہ تيرے پراسرار بندے، يہ شعر برہان واني جيسے شيروں کيلئے ہي لکھا گيا ہے جن کےجذبے کو موت بھي مات نہ دے سکي۔ روشن چہرے اور بولتي آنکھوں والا يہ نوجوان 1994ميں پيدا ہوا، پلوامہ  کے گاؤں داداسرا ميں آنکھ کھلي تو اپني زمين اور قوم کو بھارتي قبضے ميں پايا۔

l_134067_111218_updates برہان واني کے والد اسکول پرنسپل تھے، زمانہ طالب علمي ميں ہر امتحان امتيازي نمبروں سے پاس کيا، علم کي پياس بجھي نہ تھي کہ بھارتي ظلم و ستم نے آزادي کي جوت جگادي۔ صرف پندرہ سال کي عمر ميں بھارتي تسلط سےنجات کيلئے برہان نے ميدان عمل ميں آيا۔ 121-58 مسلح جدوجہد کے ساتھ سوشل ميڈيا کو بھي ہتھيار بنايا، ٹوئٹس اور پوسٹس کے ساتھ ويڈيو ميسجز کے ذريعے جذبہ آزادي ميں نئي روح پھونک دي۔ کچھ عرصے بعد انہيں حزب المجاہدين کي کمان سونپ دي گئي اور پھر مقبوضہ وادي قابض فوج کيخلاف مزاحمت کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ wani-750x500.jpg.pagespeed.ce.bwdeRFjEef مختصر عرصے ميں برہان بھارتيوں کيلئے ڈراؤنا خواب اور مظلوم کشميريوں کي آنکھ کا تارا بن گئے، ليکن آزادي کي فصل لہو کي آبياري مانگتي ہے، سو برہان کو بھی یہ فرض اتارنا پڑا۔ 3faf1a3d11ba4f3084133f3be1487b7e15bbfcf9-tc-img-preview غاصب قوت سے مقابلے کے دوران کشمير کے اس بيٹے نے آٹھ جولائي دو ہزار سولہ کو جام شہادت نوش کيا اور تحريک آزادي کي تاريخ ميں امر ہوگيا، آج مقبوضہ کشمير کا بچہ بچہ يہي کہہ رہا ہے۔۔۔

mehreen rao_1468309193

انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا، میری جنت میرے گھر سے نکل جا۔۔۔

Burhan Muzaffar Wani

Hizbul Mujahideen

#WanismWillNeverDie

Tabool ads will show in this div