کالمز / بلاگ

جذبات کو ذرا سائیڈ پر رکھیں 

1

۔۔۔۔۔**  تحریر : سالار سلیمان  **۔۔۔۔۔

عجیب رسم چل نکلی ہے کہ کوئی بھی پیغام آئے تو لٹھ اُٹھا کر چل پڑو، تحقیق کرنے کی کیا ضرورت ہے اور عقل تو شاید ہی بڑھاپے میں استعمال کی جائے گی، بینڈ ویگن اُس کانسیپٹ کو کہتے ہیں کہ کوئی ایک کام شروع کرے اور سب ہی اُس کے پیچھے چل نکلیں یا وہی کچھ کرنے لگیں جو اول الذکر کر رہا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے کیس کے حوالے سے بھی ہم بینڈ ویگن کا شکار ہی ہیں، اب تک اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے تاہم اُس کے باوجو د میرے کچھ تحفظات ہیں، جو میں لکھ رہا ہوں اور اُمید ہے کہ تشفی جوابات مل جائیں گے لیکن پہلے ہم سارے حالات کا ایک تجزیہ کرتے ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس بلیک واٹر کا اہلکار تھا جو کہ پاکستان میں بطور پرائیوٹ کنٹریکٹر تعینات ہوا، وہ پاکستان کئی مرتبہ آیا اور آخری مرتبہ لاہور میں 2 نوجوانوں کے ساتھ انکاؤنٹر میں گرفتار ہوگیا، اس انکاؤنٹر میں اُس نے دونوں نوجوانوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا، یہ دونوں نوجوان کون تھے؟ وہ کیوں ریمنڈ کا پیچھا کررہے تھے؟، ریمنڈ نے اُن کو کیوں مارا سمیت دیگر سوالات کے جوابات ہمیں معلوم نہیں ہیں، اس کے بعد وہ فرار نہ ہوسکا اور گرفتار ہو گیا۔

  1b

پورے ملک میں ریمنڈ کیخلاف مظاہرے شروع ہوگئے، پہلے یہ بات سامنے آئی کہ ریمنڈ ڈیوس ایک سفارتی اہلکار ہے اور بعد میں یہ معلوم ہوا کہ وہ سفارتی اہلکار نہیں بلکہ جاسوس ہے، اُس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے منصب سے استعفیٰ دیکر اِس کیس کو مزید ہائی لائٹ کردیا، اُس پر مقدمہ چلا، دیت کے تحت معاملات حل ہوئے اور ریمنڈ ڈیوس رہا ہوکر ملک سے باہر چلاگیا۔

اب موصوف نے ایک کتاب لکھی ہے اور اُس میں وہ ’’انکشافات‘‘ کئے ہیں کہ جن کا ہمیں پہلے سے ہی علم تھا لیکن چونکہ مصنف ’حضرت اعلیٰ ریمنڈ ڈیوس‘ ہیں تو سب ہی آنکھیں بند کرکے اُس پر ایسے یقین کررہے ہیں جیسے کہ وہ کوئی آسمانی صحیفہ لیکر نازل ہوا ہے اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اُس پر یقین کریں، اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے جو بھی لکھا ہے وہ سب کا سب سچ ہی ہے؟، وہ جھوٹ کیوں نہیں ہوسکتا ہے؟، ایک اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے حوالے لیکر اپنی ہی افواج کی مٹی پلید کی جارہی ہے، مجھے یہ بتائیں کہ اُس وقت فوج نے غلط کیا کیا؟ جنرل احمد شجاع پاشا پر جو الزامات ہیں، اُن کے حوالے سے کیا کوئی ایک بھی ثبوت ہے؟ جس کو سستی شہرت چاہئے وہ منہ اُٹھا کر فوج پر تنقید شروع کردے، کیوں؟ کیا اُس کی رہائی میں سیاسی قوتیں شامل نہیں تھیں؟، اگر فوج کو ’مبینہ‘ جرم میں رگیدا جارہا ہے تو تھوڑا سا رگڑا سیاسی قوتوں کو بھی دے دیں، تاکہ معاملہ بیلنس ہو جائے۔

raymond-davis1

کیا ہم ریمنڈ ڈیوس کو پھانسی دے سکتے تھے؟، ہرگز نہیں، جذبات کو سائیڈ پر رکھ کر دیکھئے، ہم یہ کام نہیں کرسکتے تھے، ترکی، روس، چین سمیت کوئی بھی اس وقت امریکا سے تعلقات بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اگر ہم امریکا کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کو اتنا قابل تو بنانا ہی ہوگا، بین الاقوامی تعلقات یوں نہیں چل سکتے، ریمنڈ ڈیوس کی پھانسی کے نتیجے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں مزید بگاڑ ہی آنا تھا جو کہ دونوں ملکوں کیلئے فائدہ مند نہیں تھا، اس مسئلے میں اُس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما بھی براہ راست ملوث ہو چکے تھے جس کی وجہ سے ایک فرد کی خاطر معاملے کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں لے کر جایا جاسکتا تھا۔

تاریخ میں بھی جاسوسوں کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ریمنڈ ڈیوس کے کیس کے بعد پاکستان کو فائدہ حاصل ہوا، کیمرون منٹر اُس کے بعد پاکستان کا اثاثہ ثابت ہوا اور بعد ازاں اسی کیمرون منٹر نے پاکستان کے مسئلے پر استعفیٰ بھی دیا، یہی کیمرون منٹر امریکا میں پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بھی کرتا تھا اور عمدگی سے حکام کو پیش بھی کرتا تھا تو کیا ہم ریمنڈ کو پھانسی دیکر یہ ٹارگٹ حاصل کر سکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ ریمنڈ کے کیس کے بعد جو امریکی بلیک واٹر کی پاکستان میں لوٹ سیل لگی ہوئی تھی اور جس پر اسی کیس نے بند باندھا، تو کیا ہم ڈیوس کو پھانسی دیکر یہ ٹارگٹ حاصل کرسکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔

raymond-davis

آج بلیک واٹر کا نیٹ ورک پاکستان سے بالکل ختم ہوچکا ہے اور اس واقعے کے بعد پاکستان امریکا کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں بات کرنے کی پوزیشن میں بھی آچکا ہے، ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں پاکستان کا فائدہ تھا، میری ناقص رائے میں جو ڈیل اُس وقت کی عسکری اور سیاسی قوت نے کی وہ حالات کے حساب سے بہترین تھی اور اس سے زیادہ ہم کیا حاصل کر سکتے تھے؟ کبھی جذبات کو سائیڈ پر رکھ کر سوچئے گا کہ ہم نے ریمنڈ ڈیوس کو یوں ہی نہیں دیا بلکہ اُس سے فوائد بھی سمیٹے ہیں اور یہی ’’بیسٹ ڈیل‘‘ تھی جو کہ ہم کرسکتے تھے۔

ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہر کسی پر غدار کا لیبل لگانا مسئلے کا حل نہیں ہوتاہے، بے نظیر، نواز شریف، آصف زرداری سمیت کوئی بھی غدار نہیں بلکہ ہر ایک اپنے حساب سے سوچتا ہے اور سوچنے کے نظریے میں فرق ہوسکتا ہے، اگر یہ معترضین اتنے ہی باصلاحیت ہوتے تو یقین کیجئے کہ یہ باں باں کرنے کی بجائے کسی فیصلہ کن پوزیشن میں ہوتے، اس کیس میں بھی عسکری اور سیاسی قیادت نے بغور تجزیہ کرکے ہی یہ حساب لگایا تھا کہ ریمنڈ کی پھانسی ہمیں وہ فوائد نہیں دے سکے گی جو اُس کی رہائی دے گی، کیا اُس کی رہائی خلاف قانون تھی؟۔

ایک آخری بات، سیلانی بھائی نے فیض بھائی سے ڈیورنڈ لائن کا قیدی طلب کرنے کی کوشش کی تو فیض بھائی نے اُن کو دکان کا راستہ دکھایا، یہی کام میرے ساتھ بھی ہوا۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیونکہ کتاب مفت میں بٹے گی تو کمائی کیا خاک ہوگی؟، کم از کم جو لاگت آئی ہے وہ تو پوری ہونی چاہئے، یہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا پی ڈی ایف ورژن مفت میں سارے انٹرنیٹ پر دھمالیں کیوں ڈال رہا ہے؟۔

Killer

USA

BLACK WATER

raymond davis

Tabool ads will show in this div