القاعدہ کےخواتین،بچوں کی رہائی کےبدلےبیٹے کی رہائی کی بات ہوئی،یوسف گیلانی

ویب ایڈیٹر :


ملتان : سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں کی شناخت سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، ذرائع سے پتا چلا ہے کہ اغوا کار بیٹے کی رہائی کے بدلے القاعدہ کی گرفتار خواتین اور بچوں کی رہائی چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اپنی ایجنسیوں پر بھروسہ ہے امید ہے اغوا کار میرے حیثیت اور اوقات کے مطابق مطالبات سامنے رکھیں گے جو میں کرسکوں۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بالا آخر دو سال بعد اپنے بچھڑے بیٹے کی آواز سن ہی لی، جذبات کیا ہوں گے، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں، جن حالات اور جس طرح گیلانی اپنے بیٹے سے جدا ہوئے، یہ معمہ اب تک حل نہ ہوسکا، کہ اغوا کار کون ہیں، ملتان میں صحافیوں نمائندوں سے گفت گو میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں سے جلال پور میں تقریب کے دوران بیٹے سے فون پر بات ہوئی، دو سال بعد پہلی بار بیٹے سے رابطہ ہوا، اغواکاروں کیساتھ براہ راست بات نہیں کرسکتے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اغواء کاروں سے ثالث کے ذریعے بات ہوسکتی ہے، انٹیلی جنس سے پتا چلا تھا کہ بیٹا پاکستان میں نہیں، میں نے اس اطلاع پر افغان صدر سے بات کی، بیٹے کی رہائی کیلئے اب تک کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا، بیٹے نے کہا وہ خیریت سے ہیں۔

پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ اغوا کاروں سے رہائی کیلئے کسی ثالث کے ذریعے ہی کہہ سکتے ہیں، ہم اغوا کاروں کو نہیں جانتے، مجھے اپنی ایجنسیز کے سوا کسی پر اعتماد نہیں، کوئی ایسا بندہ ہو جس سے میں بات کرسکوں اور جو ذمہ دار اٹھا سکے، ہم ان لوگوں سے براہ راست بات نہیں کرسکتے۔

افغانستان دورے سے متعلق گیلانی کا کہنا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس نے کہا تھا کہ ہمارا بچہ پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان میں ہے، افغان صدر سے ملاقات میں بھی یہ ہی بات ہوئی تو ان کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ اس کا کیا طریقہ کار ہو سکتا ہے، جس پر ہم نے کہا تھا کہ افغان انٹیلی جنس  ہماری انٹیلی جنس سے معلومات کا تبادلہ کرے۔

گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ بیٹے نے کہا ہے کہ جلد میری لوکیشن کے بارے میں بتا چل جائے گا، بیٹے نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں اور میری صحت بھی اچھی ہے، یہاں بلکل ٹھیک رکھا ہوا ہے مگر پہلے ٹھیک نہیں تھے، پہلے جس جگہ رہتے تھے وہاں ڈرون حملے بہت ہوتے تھے، یہاں ڈرون حملے  نہیں ہوتے۔ ٹئیلی فونک گفت گو میں حیدر نے مجھے سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی بات کی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ راحیل شریف اور افغان صدر سے ملاقات میں دونوں بچوں کا ذکر کیا، ملاقات میں شہباز تاثیر کی رہائی کے بارے میں بھی گفت گو ہوئی، شہباز تاثر بھی ہمارا بیٹا ہے، ابھی یہ نہیں بتا سکتے کہ مجھے کس کے ذیعے ملاقات کرنی ہے، ایک سابق جنرل سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار القاعدہ کے خواتین اور بچوں کے بدلے بیٹے کو رہا کرسکتے ہیں، انہوں نے میرے بیٹے کے بدلے القاعدہ کے قید بچوں اور خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان دورے کے دوران گیلانی کو دکھائی گئی تصاویر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے کسی ایجنسی کی جانب سے کوئی تصاویر نہیں دکھائی گئیں، مجھے افغانستان میں ابو یازید کی جانب سے مقرر ثالث نے ایک ویڈیو دکھائی تھی، جس میں ایک لڑکے کی داڑھی تھی، جس نے اپنی رہائی کی اپیل کی تھی، جس مجھے ابھی تک علم نہیں یہ کون لوگ ہیں، کیا چاہتے ہیں اور ان کے مطالبات کیا ہیں، میں امید اور ان لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایسی ڈیمانڈ اور مطالبات میرے سامنے رکھیں جو میری دسترس میں ہوں اور میں اور ہماری ایجنسیز اسے پورا کرسکیں۔

واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو سال2013 میں اِنتخابی مہم کے دوران پنجاب کے شہر ملتان میں پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ پر حملہ کرکے اغوا کیا گیا تھا۔ علی حیدر گیلانی کے اغوا کے بعد کئی بار میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ یوسف رضا گیلانی کو اُن کے بیٹے کی خیریت کے حوالے آگاہ رکھا جاتا ہے, علی حیدر گیلانی  سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے ہیں۔


علی حیدر گیلانی کا فون اُن کے والد کے پاس اُس وقت آیا، جب یوسف رضا گیلانی ، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور پیپلز پارٹی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر جاوید صدیقی ملتان شہر کے نواحی علاقے جلال پور پیر والا میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔

اغوا کاروں نے ڈاکٹر جاوید صدیقی کو موبائل پر ایک پیغام بھیجا جس میں اُن سے پوچھا گیا کہ کیا یوسف رضا گیلانی بھی اُن کے ساتھ موجود ہیں؟ مغویوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی اُن سے بات کرنا چاہتے ہیں، آٹھ منٹ کی گفتگو میں اغوا کاروں نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی اُن کی جانب سے کوئی مطالبہ سامنے آیا، جاوید صدیقی کے موبائل پر جس نمبر سے کال آئی وہ افغانستان کا تھا۔

گذشتہ سال اپریل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو ملی تھی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے نہیں بلکہ ایک اور گروہ نے اغوا کیا۔ علی حیدر گیلانی کے اغوا کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ویڈیو میں مغوی علی حیدر گیلانی نے اس گروپ کا نام نہیں لیا جن کی وہ تحویل میں ہیں، عام رائے کے مطابق علی حیدر گیلانی کو کالعدم طالبان نے اغوا کیا۔

روز قبل دو روزہ دورے پر افغانستان گئے، جہاں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اوراپنے مغوی بیٹے سمیت سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر کی بازیابی کے لیے کردارادا کرنے کی درخواست کی،جس کے دوہفتے بعد اغوا کاروں نے مغوی علی حیدر کی اپنے والد سے بات کروادی۔ اپنی ملتان میں پریس کانفرنس کے دوران یوسف رضا گیلانی جاوید پراچہ کا بھی نام لیا، جنہوں نے رہائی کیلئے کوششیں کیں۔ سماء

کی

PAT

opposition

Tabool ads will show in this div