شعلہ بیانی مہنگی پڑی؛نہال ہاشمی پرفردجرم عائد کرنے کا فیصلہ

Jun 23, 2017

Nihal Sot 1100 31-05

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے دھمکی آمیز تقریر پر ازخود نوٹس کیس میں نہال ہاشمی پر 10 جولائی کو توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عدالت نے نہال ہاشمی کی جانب سے جمع کرایا گیاجواب مسترد کردیا۔ نہال ہاشمی کو شعلہ بیانی گلے پڑ گئی، دھمکی آمیز تقریر پر ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کا جواب غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے  توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آج سماعت کے دوران  نہال ہاشمی کے وکیل حشمت حبیب نے عدالت میں بتایا کہ ان کے مؤکل عمرے پر جاچکے ہیں اور 9 جولائی تک وطن اپس آئیں گے۔

سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی عدم حاضری پرسخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیے کہ نہال ہاشمی نے عمرہ پر جانے سے قبل عدالت کو آگاہ کیوں نہیں کیا؟۔عدالت نے قرار دیا کہ نہال ہاشمی کا اقدام درست نہیں، وہ  عدالت سے اجازت لینے کے پابند تھے۔

نہال ہاشمی کے وکیل کا مؤقف تھا کہ نہال ہاشمی کیخلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ،اگر جرم ثابت ہو تو بھلے پھانسی دے دیں لیکن کارروائیاں رکوائی جائیں، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمہ میں پھانسی کی سزا ہوتی ہی نہیں۔

عدالت نے نہال ہاشمی کا جواب مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ 10 جولائی کو فرد جرم عائد کی جائے گی جبکہ وکیل کی جانب سے کراچی میں درج مقدمے کی کارروائی روکنے کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی۔

واضح رہے کہ ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نےکہا تھا کہ احتساب کرنے والوں ہم تمہارا یوم حساب بنادیں گے، تم جس کااحتساب کر رہے ہو وہ نواز شریف کا بیٹا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں سینیٹر نہال ہاشمی کا جارحانہ انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے چھوڑنا نہیں تم کو آج حاضر سروس ہو کل ریٹائر ہوجاؤ گے، ہم تمہارے بچوں اور خاندان کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کردیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جے آئی ٹی ٹیم کے حوالے سے دیے گئے نہال ہاشمی کے بیان کا نوٹس لے کر ان کا معاملہ پاناما عمل درآمد بینچ کو بھیج دیا تھا۔

مسلم لیگ ن نے ان کی پارٹی رکنیت ختم کرتے ہوئے سینیٹر شپ سے استعفیٰ بھی طلب کرلیا تھا تاہم بعد میں نہال ہاشمی نے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے ملاقات کرکے استعفیٰ منظور نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ بعد ازاں وزیراعظم نواز شریف نے ن لیگ کی ایتھکس اینڈ ڈسپلنری کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے سینیٹر نہال ہاشمی کوپارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔

نہال ہاشمی کی متنازع تقریر کے بعد ن لیگ کے سینیئر پارلیمانی لیڈر راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں تحقیقات کرنے والی  ایتھکس اینڈ ڈسپلنری کمیٹی نے سفارشات نوازشریف کو بجھوائی تھیں۔ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق نہال ہاشمی نے پارٹی ڈسپلن، پالیسی اور پارٹی پوزیشن کی خلاف ورزی کی اس لیے انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے جس پروزیراعظم نے کمیٹی کی متفقہ سفارشات پر فوری عمل کرتے ہوئے نہال ہاشمی کو پارٹی سے نکالنے کا حکم دے دیا۔ سماء

CONTEMPT OF COURT

Nihal Hashmi

Tabool ads will show in this div